مثالی خُدا کی خواہش اور تلاش کرنا

خُدا کی خواہش کرنا۔ دُنیا خُدا کے کئی روپ دِکھاتی ہے۔ کیا بائبل میں ظاہر ہونے والا خُدا مثالی ہے؟

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ذہن میں ایک مثالی خُدا کی تصویر ہے۔ شاید ہم یہ سوچتے ہیں کہ خُدا کو اس قدر قابل ہونا چاہئے کہ ہمارے ساتھ ایک تعلق قائم کر سکے اور ہماری فکر کرے۔ بائبل میں خُدا کی بیان کردہ خوبیوں میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

1- خُدا کی خواہش کرنا۔ ایک خُدا جو ہمارے مقابلہ میں عظیم ہے

گزشتہ سالوں میں بنی نوع انسان نے ترقی کی عظیم منازل طے کی ہیں۔ ہم اپنے آباؤ اجداد سے زیادہ عمر پا سکتے ہیں، آواز کی رفتار سے زیادہ تیز اُڑ سکتے ہیں اور کمپیوٹر کے (کی۔ بورڈ )کی مدد سے پوری دُنیا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ کچھ حصوں میں تو ہم نے ترقی کی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم بہت سے دوسرے حصوں سے انحراف کر رہے ہیں۔ ہر دہائی میں ہم دیکھتے ہیں کہ پُرتشدد جرائم، طلاق اور کم سِنی کی خودکشی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پوری دُنیا میں ہزاروں لوگ HIV کا شکار ہوتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں لوگ بھوک و افلاس کے نہ ختم ہونے والے مراحل سے گزر رہے ہیں۔
یہ فہرست اور بھی لمبی ہو سکتی ہے۔ مثلاً گزشتہ دہائیوں میں ہم نے پوری دُنیا میں ریکارڈ جنگوں کو دیکھا ہے۔ اگر انسانیت خُدا ہے تو ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ہم اِس کی مدد سے کوئی بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود ہم میں جرائم، طلاقیں، نسلی جھگڑے اور حکومت کی طرف سے نافذکردہ بھوک ہے۔ اس لئے کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم اُس خُدا کو مانیں جو انسانیت سے بڑا ہے اور ہمیں اُس مقام سے آگے لے جانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں ہم اپنی مدد سے پہنچ سکتے ہیں۔
بائبل میں جس خُدا کو بیان کیا گیا ہے یہ وہی خُدا ہے۔ وہ کائنات کا خالق ہونے کادعویٰ کرتا ہے۔ وہ بالاتر، سب جاننے والا، قادرِ مطلق اور ہمیشہ سے موجود ہے اور سب چیزوں کو قائم رکھنے والاہے۔ وہ فرماتا ہے، ’’یہ میں ہوں جس نے زمین کو بنایا اور انسان کو اس پر خلق کیا۔ میرے اپنے ہاتھوں نے آسمانوں کو وسعت دی۔‘‘ ’’میں خُدا ہوں، اور دوسرا کوئی نہیں، میں ہی خُدا ہوں، اور میری مانند دوسرا کوئی نہیں۔‘‘ ’’خُداوندخُدا قادرِ مطلق جو تھا اور جو ہے اور جو آنے والا ہے۔‘‘

2-خُدا کی خواہش کرنا۔ ایسا خُدا جسے شخصی طور پر جانا جا سکتا ہے

کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ ایسی قوت ہے جو ہر چیز میں موجود ہے۔ اگر سب چیزیں خُدا کی قدرت سے زندہ ہیں اور ہر لمحہ برقرار بھی رہتی ہیں، خُدا کے متعلق اس سے بھی بڑھ کر سوچا جا سکتا ہے۔ مثلاً کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہمارے پاس ایک ایسا خُدا ہو جو ہمارے والدین، بہن بھائی اور دوستوں سے بڑھ کر ہو۔ ایسا خُدا جس سے آپ بات کر سکیں، اپنے مسائل کو بیان کر سکیں، راہنمائی حاصل کر سکیں اور جس کے ساتھ اپنی زندگی کا تجربہ کر سکیں۔ اُس خُدا میں ایسی کونسی خاص بات ہے جو غیرشخصی، ناقابل تلاش اور دور دراز ہے؟
بائبل کا خُدا اپنے جاہ و جلال اور ماورا ہونے کے باوجود، جاننے کے قابل ہے اور جو خود چاہتا ہے کہ اُسے جانا جائے۔ اگرچہ خُدانادیدہ ہستی ہے لیکن پھر بھی ہم اُس سے بات کر سکتے ہیں۔ اُس سے سوال پوچھ سکتے ہیں اور اُس کی سن سکتے ہیں اور وہ ہمیں جواب دے گا اور ہماری زندگی میں راہنمائی کرے گا۔ وہ اکثر یہ جوابات اور راہنمائی اپنے کلام یعنی بائبل میں سے دیتا ہے جسے بہت سے لوگ ہمارے لئے محبت کا خط کہتے ہیں۔
ایک شخص خُدا کے ساتھ ویسا ہی رشتہ قائم کر سکتا ہے جیسا اُس کے خاندان کے کسی فرد سے ہوتا ہے۔ درحقیقت جو اُسے جانتے ہیں وہ اُنہیں اپنے فرزند، دُلہن اور دوست کہہ کر بلاتا ہے۔ پس بائبل کا خُدا کچھ بھی ہو لیکن غیرشخصی نہیں ہو سکتا۔ اسے غصہ آتا ہے، وہ رنجیدہ ہوتا ہے ، وہ رحم، مہربانی اور شفقت دکھاتا ہے کیونکہ وہ ایک کامل جذباتی شخصیت ہے۔ وہ بے حد عقل، سمجھ اور شخصیت کا حامل ہے۔ ہم اُس کے متعلق محض حقائق ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ دراصل ہم اُسے ایک بہترین دوست کی طرح گہرے طور سے جان سکتے ہیں ۔ ’’اب ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ جانیں کہ سچا خُدا تو ہی ہے۔ ‘‘

3-خُدا کی خواہش کرنا۔ ایسا خُدا جو انسانی تجربہ سے اپنا تعلق قائم کرسکتا ہے۔

کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ خُدا کسی دوردراز مقام پر رہتا ہے۔ اُس نے کائنات کو خلق کیا اور پھر اِسے خود ہی چلنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا۔کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہمارے پاس ایک ایسا خُدا ہو جو اِس کائنات سے تعلق رکھتاہو بالخصوص اس زمین کے حالات و واقعات سے ۔ اور انسانی زندگی میں ہر نئی صبح آنے والی مشکلات ، ذمہ داریاں اور چیلنجز سے بھی وابستہ ہو۔ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہمارا خُدا اِن سب چیزوں کو سمجھتا ہو؟ اور اِس بے حس دُنیا میں زندگی کی مشکلات سے واقف ہو جہاں اس نے ہمیں رکھا ہے۔
بائبل کا خُدا خوب جانتا ہے کہ ایک انسان ہونے کا کیا مطلب ہے۔ یسوع مسیح نہ صرف خُدا کا بیٹا ہے بلکہ خود خُدا ہے۔ اُس نے انسانی صورت اور سیرت اختیار کی۔ ’’ابتدا میں کلام (یسوع) تھا اور کلام (یسوع) خُدا کے ساتھ تھا اور کلام (یسوع) ہی خُدا تھا۔ اور کلام مجسم (انسان) ہوا اور ہمارے درمیان رہا‘‘۔
بائبل خُدا کے بیٹے کے متعلق بیان کرتی ہے کہ وہ خُدا کے جلال کا پرتو ہے اور اُس کی شخصیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ اندیکھے خُدا کی صورت ہے۔
وہ قادرِ مطلق خُدا اور ابدی باپ ہے جس نے انسانی شکل اختیار کی اور انسانوں کے مشابہ ہوا۔ اُس خُدا کی سب معموری انسانی شکل میں پائی جاتی ہے۔ سب چیزیں اس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں یعنی آسمانی، زمینی، دیکھی اور اندیکھی۔
یسوع نے اپنے متعلق کہا کہ جس نے اُسے دیکھا اُ س نے باپ کو دیکھا۔ جو اُسے قبول کرتا ہے وہ باپ کو قبول کرتا ہے۔ اور وہ اور باپ ایک ہیں۔
یسوع اگرچہ کامل خُدا تھا لیکن وہ ایک کامل انسان بھی تھا۔ اسے بھوک لگی، وہ سویا، رویا وغیرہ۔ اُس نے ہر قسم کی مشکل کا سامنا کیا۔ اس لئے بائبل فرماتی ہے کہ وہ ہماری کمزوریوں میں ہمارے ساتھ ہمدردی کرنا جانتا ہے۔ اگرچہ وہ ہماری طرح ہر طور سے آزمایا گیا لیکن پھر بھی بے گناہ تھا۔
پس بائبل کا خُدا اِس دُنیا کے کرب، مشکلات اور برائی سے ناواقف نہیں۔ اُس نے زندگی کو ویسے ہی برداشت کیا جیسے ہم کرتے ہیں۔ درحقیقت اُس نے اِس سیارے پر عاجزی کی زندگی بسر کی۔ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ جسمانی طور پر پُرکشش نہ تھا، اس نے تعصب اور نفرت کا سامنا کیا، اُس کے رفقا اور رشتہ داروں نے اُسے غلط سمجھا اور اُس کو بے گناہ مصلوب کیا گیا۔

4- خُدا کی خواہش کرنا۔ ایسا خُدا جو واقعی ہماری فکر کرتا ہے۔

ہم میں سے زیادہ تر یہ چاہتے ہیں کہ اُن سے محبت کی جائے اور اُنہیں قبول کیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ صرف لفظوں سے نہیں بلکہ حقیقت میں ہماری فکر کریں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے کاموں سے ثابت کریں کہ وہ ہماری فکر کرتے ہیں ۔ کیا ہم خُدا سے بھی یہی نہیں چاہتے ؟ کیا یہ مثالی نہ ہو گا اگر خُدا واقعی ہماری فکر کرے اور ہمیں اپنی محبت کا ٹھوس ثبوت دے۔
بائبل کا خُدا واقعی ہماری فکر کرتا ہے۔ اس نے اسے لفظی صورت بھی دی ہے۔ درحقیقت بائبل بیان کرتی ہے کہ خُدا محبت ہے ۔لیکن محض الفاظ اس فکر اور لگاؤ کو بیان نہیں کر سکتے جتنا آپ کے عملی اقدام۔ اسی لئے بائبل کا خُدا بہت زیادہ منفرد اور عظیم ہے۔ درحقیقت اُس نے ہمیں دکھایا کہ وہ ہماری کتنی فکر کرتا ہے۔
خُدا نے اپنی محبت کا اظہار اس طرح کیا کہ اُس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دُنیا میں بھیجا تا کہ ہم اُس کے وسیلہ سے بے عیب ہو کر خُدا کے سامنے آئیں۔ محبت یہ نہیں کہ ہم نے اُس سے محبت کی بلکہ اس میں ہے کہ اُس نے ہم سے محبت کی اور ہمارے گناہوں کے فدیہ کی قربانی کے طور پر اپنا بیٹا بھیجا۔ ’’کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تا کہ جوکوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‘‘
بائبل کا خُدا کامل اور پاک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ خُدا نور ہے اور اُس میں ہرگز تاریکی نہیں۔ اسی لئے وہ ایسے رشتوں کی خواہش کرتا ہے جو پاک اور سچے ہوں ۔ تاہم خُدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا تا کہ ہم بے عیب ہو کر خُدا کے سامنے آئیں۔
یسوع نے ایک کامل اخلاقی زندگی بسر کی اور پھر اُسے اُن سب غلط باتوں کی وجہ سے جو ہم نے سوچنے، کہنے یا عملی طور پر کیں۔ (جنہیں گناہ کہتے ہیں) وہ ہماری خاطر ہمارے عوض مارا گیا۔ یعنی وہ ہماری خاطر موا۔ خُدا نے اُسے ہماری خاطر گنہگار ٹھہرایا جس میں کوئی گناہ نہ تھا تا کہ ہم اُس میں خُدا کی راستبازی بن جائیں۔ ’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا پر خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی۔‘‘
خُدا نے ہماری اتنی فکر کی کہ ہمارے گناہوں کے لئے ہماری جگہ اپنے بیٹے کو بھیج دیا۔ خُدا کتنا زیادہ ہم کو جاننا چاہتا تھا۔ وہ ہر ضروری کام کرنے کے لئے تیار تھا یعنی ہمارے گناہوں کو دھونا ضروری تھا۔ اب ہم مکمل طور پر معافی حاصل کر سکتے ہیں اور بغیر کسی رکاوٹ کے اُس کے ساتھ ایک رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔

5-خُدا کی خواہش کرنا ایسا خُدا جو سب چیزوں پر مکمل اختیار رکھتا ہے

کیا دنیا کی سب برُی چیزیں یہ ثابت نہیں کرتیں کہ نیک اور قادر مطلق خُدا کا کوئی وجود نہیں؟ یہ ضروری نہیں۔ حتیٰ کہ خُدائے کامل بھی بعض اوقات اپنے اعلیٰ منصوبے کے لئے بُری چیزوں کو آنے دیتا ہے۔ خُدا جانتا ہے کہ ہر وقت کیا ہو گا اور وہ ایسا ہونے دیتا ہے تا کہ اپنے عظیم منصوبے پورے کرے۔
یہ بائبل کا خُدا ہے ۔ وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ زمین پر اُس کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ وہ سب چیزوں پر حاکم اعلیٰ ہے۔’’اگر خُدا حکم صادر نہ کرے تو کون ہے جس کے کہنے سے کچھ ہو سکتا ہے؟ تاہم ہرکام خُدا کی مرضی سے ہوتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کام اُسے پسند بھی ہے۔قدیم الایام سے لے کر ابھی تک جو کچھ واقع ہوا ہے میں نے اسے ابتدا سے انتہا تک ظاہر کیا۔ میں کہتا ہوں کہ میرا منصوبہ قائم رہے گا اور جو کچھ میری نظر میں اچھا ہے میں کروں گا۔ خُدا کے منصوبے اور اُس کے دل کے ارادے نسل در نسل ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ خداکا منصوبہ ہی غالب آتا ہے‘‘۔
تاہم اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر کام خُدا کی مرضی سے واقع ہوتا ہے۔ مثلاً یسوع نے اپنے شاگردوں کو سکھایا کہ دُعا کیسے کریں۔ اس دُعا میں ایک اہم بیان یہ ہے ’’تیری مرضی جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو‘‘۔ خُدا کی اخلاقی مرضی ہمیشہ زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر پوری ہوتی ہے۔ خُدا اگرچہ مطلق العنان ہے لیکن وہ زمین پر ہونے والے ہر کام کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر وہ اُن چیزوں کو واقع ہونے دیتا ہے (یہ اُس کی جائز مرضی ہے)۔شاید یہ اُس انتخاب کی آزادی ہے جو ہم سب انسانوں کے پاس بھی ہے۔
لیکن خُدا کا ایک منصوبہ ہے۔ وہ اپنے دل کے مقاصد کو پورا کیے بغیر آرام نہ کرے گا ۔ یہ منصوبہ کیا ہے؟ خُدا کا حتمی مقصد یہ ہے کہ وہ انسانوں کے ساتھ ایک ایسے الگ ماحول میں رہے جو ہمارے موجودہ تجربہ سے مکمل طور پر مختلف ہو۔ اگلے جہان کے متعلق خُدا فرماتا ہے کہ اب خُدا انسان کے درمیان ہے اور اِن کے درمیان رہے گا۔ وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خُدا اُن کے ساتھ ہو گا اور اُن کا خُدا ہو گا۔ وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ وہاں کوئی موت یا آہ و نالہ یا رونا یا درد نہ ہو گا کیونکہ چیزوں کا پرانا قانون جاتا رہا۔ میں ہر چیز نئی بناؤں گا۔

6- خُدا کی خواہش کرنا۔ وہ خُدا جو زندگی کو معنی و مقصد دیتا ہے۔

اگر آپ کسی بڑے کام یا پراجیکٹ کے متعلق سوچیں جسے آپ نے مکمل کیا ہو تو شاید آپ اُس کے مقصد پر غور کریں۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی ایسی ہو؟ آپ کی زندگی کی کوئی قدرومنزلت ہو۔ کیا ایسا کوئی خُدا ہوسکتا ہے جس نے آپ کی زندگی کو ایک مقصد کیلئے خلق کیا اور اس مقصد کا تجربہ کرنے کے لئے آپ کی راہنمائی کر سکتا ہو؟
جی ہاں بائبل کا خُدا ایسا کر سکتا ہے ۔ وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ ہماری زندگی کو بامعنی اور بامقصد بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک رشتے کی بدولت ہم وہ نیک کام کر سکتے ہیں جو اُس نے ہمارے لئے پہلے سے ہی تیار کر رکھے ہیں۔ ہم اُس کی مدد سے دوسروں کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ہم اُس کے عظیم منصوبے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
بائبل کا خُدا فرماتا ہے کہ جب ہم لمحہ بہ لمحہ اُس کے ساتھ ایک رشتے میں پیوست ہوتے ہیں تو وہ ہمارے قدموں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اور اس طرح ہم وہ کام کرتے ہیں جو نہ صرف اُس کو خوش کرتا ہے بلکہ ہماری زندگی کے لئے بھی بہتر ہوتا ہے۔ ’’اپنی سب راہوں میں اُسے یاد کر تو وہ تیری راہیں سیدھی بنائے گا۔‘‘ اس کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی مکمل طور پر شاندار ہو جاتی ہے۔ زندگی میں پھر بھی بیماری، مسائل اور ذاتی ناکامیاں رہتی ہیں۔ زندگی کامل تو نہیں ہوتی لیکن اور زیادہ بھرپور ہو جاتی ہے۔ خُدا فرماتا ہے کہ اسے جاننے کے فوائد یہ ہیں، ’’محبت، خوشی، اطمینان، صبر ، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلیمی اور نفس پر قابو۔‘‘

7- خُدا کی خواہش کرنا۔ ایسا خُدا جو ہمیں حقیقی آسودگی بخشتا ہے

ہم میں سے بہت سے اپنی زندگی میں محبت اور قبولیت کی تکمیل چاہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اندر ایک پیاس ہے جسے بجھانے کی ضرورت ہے۔ ہماری کوشش کے باوجود یہ پیاس دولت، جائیداد، عیش و عشرت یا تفریح سے نہیں بجھتی۔ اس لئے کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ایک ایسا خدا ہو جو ہماری پیاس بجھائے اور جس کی موجودگی ہماری زندگی میں ابدی اطمینان کو لائے۔
بائبل کا خُدا ممکن ترین بھرپور زندگی کی پیش کش کرتا ہے۔ یسوع نے کہا، ’’میں اس لئے آیا تاکہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔‘‘ اس نے یہ بھی کہا، ’’میں زندگی کی روٹی ہوں۔ وہ جو میرے پاس آتا ہے وہ کبھی بھوکا نہ رہے گا اور جو مجھ پر ایمان لاتا ہے کبھی پیاسا نہ ہو گا۔‘‘ پس بائبل کا خُدا ہماری باطنی پیاس کو بجھانے کا وعدہ کرتا ہے جسے کوئی دوسرا نہیں بجھا سکتا۔(اُس نے شاید ہمیں ایسا ہی بنایا ہے جیسی ہماری حالت نظر آتی ہے۔)

مثالی خُدا کی خواہش کرنا

بائبل کی نظر میں سچا خُدا صرف ایک ہی ہے۔ اور سب چیزوں کا خالق بھی ایک ہی ہے۔ یہ ایک مثالی خُدا ہے۔ ہم کسی دوسرے خُدا کے وجود کی خواہش نہ کریں گے۔ آخر ہم ایسا کیوں چاہیں گے۔ سچا خُدا ہی بہترین ممکنہ خُدا ہے۔ یہ مضمون صرف سطحی طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ بائبل کا خُدا کیسا ہے ۔ اگر آپ اس مضمون کی مزید چھان بین کرنا چاہتے ہیں تو بائبل میں سے یوحنا کی انجیل پڑھیں۔ اگر آپ سچے ہیں اور بائبل کا خُدا حقیقی ہے تو کیا وہ خود کو آپ پر ظاہر نہ کرے گا؟ وہ فرماتا ہے کہ میں اُن سے محبت کرتا ہوں جو مجھ سے محبت کرتے ہیں اور جو مجھے ڈھونڈتے ہیں اور پا لیتے ہیں۔ ’’مانگو تو تم کو دیا جائے گا، ڈھونڈو تو پاؤ گے، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو وہ تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔‘‘
کیا آپ حیران ہیں کہ آپ اس مثالی خُدا کو کیسے جانیں گے؟ بنیادی طور پر خُدا کے ساتھ رشتے کا آغازکرنے کا مطلب جیسے شادی میں رشتے کا آغاز کرنا ہے۔ اس رشتے میں پیوست ہونے کے لئے اپنی مرضی سے ایک فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح خُدا سے بھی سچے دل سے یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ مجھے قبول ہے۔
یسوع مسیح ہمارے گناہوں کی خاطر موا، تین دن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھا اور آج بھی زندہ ہے۔ آج اگر ہم اپنے گناہوں کی معافی کے لئے اس پر یقین کرتے ہیں تو وہ ہمیں نئی زندگی دیتا ہے۔ ’’میرے باپ کی مرضی ہے کہ جو کوئی بیٹے کو پہچانتا ا ور اُس پر ایمان لاتا ہے وہ ابدی زندگی پائے گا اور میں اسے آخری دن مُردوں میں سے جلاؤں گا۔‘‘
خُدا انسانوں کی طرح طرفداری نہیں کرتا۔ سب لوگ اُس کی شبیہ پر بنائے گئے۔ پس اُس کے ابدی خاندان کو ایسے بیان کیا جاتا ہے کہ ہر قوم، قبیلے اور اہل زبان کی ایک ایسی بھیڑ ہو گی جسے کوئی شمار نہ کر سکے گا۔ اورکوئی گناہ آپ کو خُدا کے ساتھ رشتے کا آغاز کرنے سے نہ روکے گا۔وہ ہمارے گناہوں کے معاملہ کو صلیب پر لے گیا جہاں یسوع مصلوب ہوا ۔ اب صرف آپ نے یسوع کی موت پر ایمان لانا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے ماضی میں کیا کیا۔
جب آپ ایک دفعہ خُدا کے ساتھ اپنے رشتے کا آغاز کریں گے تو یہ ابدیت میں بھی قائم رہے گا۔ یہ رشتہ موجودہ زندگی میں بھی زندہ رہے گا اور اہم ہو گا اور وقت کے ساتھ مضبوط ہو گا۔ ہر رشتے کی طرح اس میں بھی نشیب و فراز اور خوشی اور غم آئیں گے۔لیکن آپ اس رشتے میں قائم رہیں گے اور اس مقصد کو پورا کریں گے (یعنی اسے جاننا) جس کے لئے اس نے آپ کو بنایا۔
کیا آپ محسوس کر رہے ہیں کہ خُدا آپ کے دل کو چھو رہا ہے؟ یسوع نے کہا، ’’دیکھ میں دروازہ پر کھڑا ہوا کھٹکھٹاتا ہوں۔ اگر کوئی میری آواز سن کر دروازہ کھولے گا تو میں اُ س کے پاس اندر جاؤں گا۔‘‘ اگر آپ ابھی خُدا کو اپنی زندگی میں دعوت دینا چاہتے ہیں تو یہ دُعا آپ کی راہنمائی کرے گی (آپ کے الفاظ کے انتخاب کی بجائے آپ کے دل کی سچائی ضروری ہے)
پیارے خُدا! میں اقرار کرتا ہوں کہ میں گنہگارہوں۔یسوع کی صورت میں میرے سب گناہوں کو صلیب پر لینے کا شکریہ! میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیرے ساتھ ایک رشتے میں پیوست ہونا چاہتا ہوں۔ میں تجھ سے التماس کرتا ہوں کہ میرے خداوند اورنجات کے طور پر میری زندگی میں آ، اب سے ہمیشہ تک میرا خُدا بن جا اور مجھے وہ شخص بنا دے جو تو بناناچاہتا ہے۔
اگر آپ خُدا کے ساتھ رشتے کو مزید جاننا چاہتے ہیں تو دیکھئے مضمون : ’’خُدا کو شخصی طور پر جاننا‘‘ اگر آپ نے یہ فیصلہ کیا ہے تو ہم اس کے متعلق جاننا پسند کریں گے۔ مہربانی سے ہم سے رابطہ کیجئے:
اگر اس مضمون میں اُٹھائے گئے سوالات کے متعلق آپ کا کوئی سوال ہے، خُدا کو جاننے کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں یا اپنے کیمپس کے لوگوں سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ای۔ میل بھی کیجئے۔

میں نے ابھی یسوع کو اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دی ہے (کچھ مددگار معلومات آگے ہے)۔۔۔

میں یسوع کو اپنی زندگی میں دعوت دینا چاہوں گا۔ مہربانی سے اس کی مزید اور مکمل وضاحت کریں۔۔۔

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔