خدا کو شخصی طور پر جاننا

خُداکی تلاش

ہم خداکو شخصی طور پر کیسے جان سکتے ہیں؟ ہم کیسے خدا کے ساتھ اپنا شخصی رشتہ ابھی قائم کر سکتے ہیں ؟ آیئے اس کے بارے میں سیکھیں: چمکدار آسمانی بجلی کے گرنے کا انتظار کریں؟ خود کو بے لوث مذہبی اور فلاحی کاموں کیلئے وقف کر دیں؟ایک بہترین شخص بن جائیں تا کہ خُدا آپ کو قبول کرے؟ایسا کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں خُدا نے بائبل مقدس میں نہایت آسان طریقہ بتایا ہے کہ کیسے ہم اُس کو جان سکتے ہیں۔اس سے آپ سیکھیں گے کہ کس طرح خُدا کے ساتھ شخصی رشتہ اسی وقت اُستوار کیا جا سکتا ہے۔

پہلا اصول: خدا آپ سے محبت کرتا ہے اور آپ کی زندگی کیلئے ایک شاندار منصوبہ رکھتاہے۔

خدا نے ہمیں اپنی صورت پر خلق کیا ۔ اس لئے کہ اُسے ہم سے بے حد محبت ہے ۔ اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کو جانیں اور ابدیت اُس کے ساتھ گزاریں۔ یسوع نے کہا’’کیونکہ خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جوکوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے ۔‘‘پس یسوع زمین پر اسلئے آیا کہ ہم میں سے ہر ایک شخصی طور پر خُدا کی پہچان تک پہنچ سکے۔ یسوع ہی ہماری زندگی کو بامقصد اور بامعنی بنا سکتا ہے۔
کونسی چیز ہمیں خُدا کو جاننے سے روکتی ہے؟۔۔۔


دوسرا اصول: ہم سب نے گناہ کیا اور ہمارے گناہ کی وجہ سے خدااور ہمارے درمیان جدائی کی دیوار کھڑی ہو گئی۔

ہم اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اپنے گناہوں کے باعث خدا سے دور ہیں ۔ بائبل مقدس ہمیں یہ سکھاتی ہے ’’ ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے ۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا۔‘‘
اس بھٹکنے کو ہم چاہے بغاوت کا نام دیں یا خُدا کی راہوں سے دوری کہیں لیکن یہ اس بات کا ثبوت ہے جس کو بائبل گناہ کہتی ہے اور ہماری زندگیوں میں اس گناہ کا نتیجہ موت ہے یعنی روُحانی طور پر خُدا سے دوری۔
یہ خاکہ اس بڑے خلا کو ظاہر کرتا ہے جو خُدا اور انسان کے درمیان میں ہے۔تیرکے نشان تشبیہ کے طور پر ظاہر کرتے ہیں اُن کوششوں کو جو ہم خُدا تک پہنچنے کیلئے کرتے ہیں شاید ہم زندگی میں اچھے کام کرنے کی کوشش کریں یا خُدا سے قبولیت حاصل کرنے کیلئے اچھی زندگی اور اعلیٰ اخلاقی معیار پیش کریں لیکن ہمارے گناہوں کو ڈھانپنے کیلئے یہ تمام کوششیں ناکافی ہیں۔
اس خلا پر پُل کیسے تعمیر کریں؟


تیسرا اصول : خداوند یسوع ہی وہ وسیلہ ہے جس سے ہم اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔اس کی مدد سے ہم اپنی زندگی میں خُدا کے منصوبے اور محبت کو حاصل کر سکتے ہیں ۔

ہم اپنے گناہوں کی سزا کے مستحق ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ گناہوں کی سزا موت ہے ۔پس ہمیں خُدا سے ابدی جُدائی کی حالت میں موت کا سامنا نہیں کرنا چاہیے ۔چونکہ خدا ہم سے محبت رکھتا ہے اس لئے مسیح ہماری خاطر مصلوب ہوا۔ بائبل مقدس یہ بیان کرتی ہے کہ یسوع مسیح اندیکھے خدا کی صورت پر تھااور سب چیزیں اس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں۔ خداوند یسوع کو کفر کے الزام میں مصلوب کیا گیا ۔ یعنی اس نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا ۔ جو کہ ایک حقیقت ہے۔
خداوند یسوع جب مصلوب کیا گیا تو وہ ہمارے سب گناہوں کو صلیب پراپنے ساتھ لے گیااور ہمارا فدیہ اداکیا۔ مسیح کا ہمارے گناہوں کے بدلے اپنی جان دینا دراصل ایک راستباز کا ناراستوں کی جگہ مرنا ہے تا کہ خُدا سے ہمارا ملاپ ہو سکے۔ اُس نے ہمیں ہماری راستبازی اور نیک اعمال کے سبب سے نہیں بچایا بلکہ اپنے خاص ترس سے ۔ اس نے تو ہمیں اس وقت بچایا جب ہم گنہگار ہی تھے۔ جب یسوع ہماری خاطر صلیب پرموا تو اس نے خدااور ہمارے درمیان گناہ کی دیوار کوگرا دیا ۔خداوند یسوع نہ صرف صلیب پرموا بلکہ اس نے مرُدوں میں سے زندہ ہو کر ہمیں ابدی زندگی کا راستہ دکھایا۔اسی لئے اس نے کہا ’’ راہ اور حق اورزندگی میں ہوں ۔ کوئی بھی میرے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔‘‘
بجائے اس کے کہ سخت کوششوں سے اُس تک پہنچا جائے اُس نے ہمیں آسان راستہ دِکھا دیا کہ کیسے خُدا کے ساتھ رشتہ جوڑا جائے۔ یسوع نے کہا’’ اگر کوئی پیاسا ہو تو میرے پاس آ کر پیئے۔ جومجھ پر ایمان لائے گا اس کے اندر سے جیسا کہ کتاب مقدس میں آیا ہے زندگی کے پانی کی ندیاں جاری ہونگی۔‘‘ یہ خداوند یسوع کی بے پناہ محبت تھی کہ اس نے ہماری خاطر صلیب کو چنا ۔ اب وہ ہم سب کو دعوت دیتا ہے کہ اس کے پاس آجائیں اور اس کے وسیلہ سے باپ کے ساتھ اپنے شخصی رشتے کا آغاز کریں ۔ صرف اس بات کو جاننا کہ یسوع نے ہمارے لئے کیا کیا ہے اور وہ ہمیں کیا دیتا ہے کافی نہیں۔ اس کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کیلئے اُسے اپنی زندگی میں دعوت دینا ضروری ہے۔


چوتھا اصول: ہمیں شخصی طور پر خداوند یسوع کواپنا نجات دہندہ اور خداوند قبول کرناہے ۔

بائبل یہ بیان کرتی ہے’’ جتنوں نے اسے قبول کیا اُس نے انہیں خداکے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی انہیں جو اسکے نام پر ایمان لائے ۔‘‘ ہم یسوع کو ایمان سے قبول کرتے ہیں۔ بائبل کے مطابق اس نے ہمیں اپنے فضل سے بچا لیا ۔ انسان کیلئے یہ خدا کا ایک تحفہ ہے ۔ہم یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ اسے ہم نے خود حاصل کیا ہے۔ کیونکہ نجات ہماری راستبازی کا پھل نہیں ۔اسلئے ہم میں سے کوئی بھی اس نجات پر فخر نہیں کر سکتا ۔اگر ہم خداوند یسوع کو قبول کر تے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا کااکلوتا بیٹا ہے جس کا اُس نے دعویٰ بھی کیا۔ اور ہم اسے اپنی زندگیوں پر حکمرانی کرنے کااختیار دے دیتے ہیں ۔ یسوع نے کہا ’’ میں اس لئے آیا کہ تم زندگی پاؤ اور کثرت کی زندگی پاؤ ۔‘‘ اب یسوع ہمیں یہ دعوت دیتا ہے اس نے کہا ’’ دیکھ میں دروازہ پر کھڑا کھٹکھٹاتاہوں ۔اگر کوئی میری آواز سن کر دروازہ کھولے گا تومیں اس کے پاس اندر جا کر اُس کے ساتھ کھانا کھاؤنگا اور وہ میرے ساتھ ۔‘‘


آپ کیسے خداکی دعوت کا جواب دیں گے؟

ان دائروں پر غور کیجئے:
ہماری خودی تخت پر ہے ۔ (خودی)
یسوع ہماری زندگی سے باہر۔ (صلیب کا نشان بنانا)
ہم اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرتے ہیں جو عموماً انتشار کا شکار ہے ۔
یسوع ہماری زندگی کے تخت پر ۔ (صلیب کا نشان بنانا)
ہماری خودی یسوع کے تابع ہے ۔ (خودی)
ہماری زندگی کے تمام فیصلے یسوع کی مدد سے ہوتے ہیں ۔ یہ فیصلے عموماً ہماری زندگی میں امن اور اطمینان کو لاتے ہیں۔
کونسا دائرہ آپ کی زندگی کو پیش کرتا ہے ؟


آپ کونسے دائرے میں زندگی بسر کرنا پسند کریں گے؟

یسوع کے ساتھ اپنے رشتے کو قائم کریں ۔۔۔۔
آپ خُداوند یسوع کو ابھی قبول کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ یسوع نے کہا، ’’دیکھ میں دروازہ پر کھڑا کھٹکھٹاتا ہوں ۔ اگر کوئی میری آواز سُن کر دروازہ کھولے گا تو میں اِس کے پاس اندر جا کر اُس کے ساتھ کھانا کھاؤں گا اور وہ میرے ساتھ۔‘‘کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کی دعوت کو قبول کریں۔ ذیل میں اس کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔
خود کو خُدا کے حضور پیش کرنے کیلئے الفاظ کا درست یا خوبصورت ہونا ضروری نہیں۔ وہ تو آپ کے دل کے ارادوں کو جانتا ہے۔ اگر آپ الفاظ کے چُناؤ میں گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں تو درج ذیل الفاظ آپ کی مدد کر سکتے ہیں:
’’اے خُداوند یسوع مَیں آپ کو جاننا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میری زندگی میں آئیں میری خاطر صلیبی موت قبول کرنے کا شکریہ جس کی وجہ سے میں آپ کے حضور آ سکتا ہوں۔آپ ہی مجھے تبدیل ہونے کی طاقت دے سکتے ہیں اور مجھے وہ شخص بنا سکتے ہیں جس کیلئے میں خلق کیا گیا۔ مجھے معاف کرنے اور ابدی زندگی دینے کا شکریہ! میں اپنی زندگی آ پ کو دیتا ہوں۔ مہربانی سے میری زندگی میں اپنی مرضی کو پورا کریں! آمین!‘‘
اگر آپ نے سچے دل سے یسوع کو اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دی ہے تو وہ اپنے وعدے کے مطابق آپ کی زندگی میں آ چکا ہے۔ آپ نے خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کر دیا ہے۔ اب آپ نے خُدا کو مزید اور بہتر طور پر جاننے کیلئے روزانہ بائبل پڑھنی ہے، دُعا کرنی ہے اور دوسرے ایمانداروں کے ساتھ رفاقت رکھنی ہے تاکہ آپ عمر بھر روحانی ترقی میں بڑھتے چلے جائیں۔

میں نے ابھی یسوع کو اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دی ہے (کچھ مددگار معلومات آگے ہے)۔۔۔

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔