خُدا کون ہے؟

خُدا کون ہے؟ اُس کی صورت کیسی ہے؟ اُس کی شخصیت کی چھ خصوصیات۔۔۔

خُدا کون ہے۔۔۔ہم اُسے کیسے جان سکتے ہیں۔
خُدا جس نے کل کائنات اور اِس میں موجود ہر چیز کو پیدا کیا ہم اسے جان سکتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے متعلق ہمیں بتاتا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہمارے ساتھ ایک رشتہ قائم کرتا ہے تا کہ ہم اُسے شخصی طور پر جان سکیں۔ اور اسے جاننے کے بعد ہم ایک گہرے رشتے میں داخل ہو سکیں۔
’’خداوند یوں فرماتا ہے کہ نہ صاحبِ حکمت اپنی حکمت پر اور نہ قوی اپنی قوت پر اور نہ مال دار اپنے مال پر فخر کرے۔ لیکن جو فخر کرتا ہے اِس پر فخر کرے کہ وہ سمجھتا اور مجھے جانتا ہے کہ میں ہی خُداوند ہوں جو دنیا میں شفقت و عدل اور راستبازی کو عمل میں لاتا ہوں کیونکہ میری خوشنودی اِن ہی باتوں میں ہے خُداوند فرماتا ہے۔‘‘ (یرمیاہ 24-23:9)

خُدا کون ہے۔۔۔وہ قابل رسائی ہے۔
خُدا دعوت دیتا ہے کہ ہم اُس سے بات کریں اور اپنی مشکلات کو اُس کے سامنے رکھیں۔ اس امر میں ہمیں بہت اچھے اعمال کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمیں بہت زیادہ خوش اخلاق، علم الٰہیات کے ماہر اور پاک ہونے کی ضرورت ہے لیکن جب ہم اُس کے قریب آجاتے ہیں تو وہ اپنی محبت بھری اور قابلِ رحم فطرت کی بدولت ہمیں قبول کر لیتا ہے۔
’’خُداوند اُن سب کے قریب ہے جو اُس سے دُعا کرتے ہیں۔ یعنی اُن سب کے جو سچائی سے دُعا کرتے ہیں۔‘‘ (زبور 18:145)

خُدا کون ہے۔۔۔وہ خالق ہے۔
ہم جو کچھ بھی بناتے ہیں وہ پہلے سے موجود چیزوں کا مجموعہ یا پیشتر خیالات کا حاصل ہوتا ہے۔ لیکن خُدا میں یہ قدرت ہے کہ اُس نے محض بول کر چیزوں کو خلق کیا یعنی نہ صرف اجرامِ فلکی کو بلکہ زندگی کو بھی اور اِس میں موجود دورِ حاضر کے مسائل کاحل بھی بتایا۔ خُدا ہمارے لئے چیزوں کو خلق کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کی قدرت سے واقف ہوں اور اس پر بھروسہ رکھیں۔
’’ہمارا خُداوند بزرگ اور قدرت میں عظیم ہے۔ اُس کے فہم کی انتہا نہیں۔‘‘ (زبور 5:147)
’’میری کمک کہاں سے آئے گی؟
میری کمک خُداوند سے ہے
جس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔‘‘ (زبور 2-1:121)

خُدا کون ہے۔۔۔ وہ معاف کرنے والا ہے۔
ہم گناہ کرتے ہیں۔ ہم خُدا کی مرضی کو چھوڑ کر اپنی مرضی کو پورا کرتے ہیں۔ وہ یہ سب دیکھتا اور جانتا ہے۔ خُدا نہ صرف اِن گناہوں پر نظر رکھتا ہے بلکہ ان کا فیصلہ کر کے انسانوں کو سزا بھی دیتا ہے۔ تاہم خُدا معاف کرنے والا ہے اور جب ہم اس کے ساتھ اپنے رشتے کا آغاز کرتے ہیں تو وہ اُسی لمحہ ہمیں معاف کرتا ہے۔ خُدا کے بیٹے یسوع نے صلیب پر جان دے کر ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کی۔ وہ مردوں میں سے جی اُٹھا اور ہمیں معافی عطا کی۔
’’یعنی خُدا کی وہ راست بازی جو یسوع مسیح پر ایمان لانے سے سب ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ مگر اُس کے فضل کے سبب سے اُس مخلصی کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں ہے مفت راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں۔‘‘ (رومیوں 25-22:3 )

خُدا کون ہے۔۔۔وہ سچا ہے۔
بالکل اِسی طرح جیسے ایک شخص آپ کو اپنی سوچوں اور خیالات سے آگاہ کرتا ہے خُدا بھی خود کو ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ کیوں ہم سے الگ ہے کیونکہ وہ سچا ہے۔ اس کی معلومات ہمیشہ قابل بھروسہ ہوتی ہیں خواہ وہ اس کی ذات کے متعلق ہو یا ہمارے متعلق۔
خُدا ہمیشہ درست اور راست باتیں کہتا ہے اور اُن میں ہمارے خیالات سوچیں اور احساسات شامل نہیں ہوتے۔ اس کا ہر وعدہ پورا ہوتا ہے۔ ہم اُس کی باتوں پر بھروسہ کرسکتے ہیں۔
’’تیری باتوں کی تشریح بخشتی ہے۔
وہ سادہ دلوں کو عقلمند بناتی ہے۔
تیرا کلام میرے قدموں کے لیے چراغ
اور میری راہ کے لیے روشنی ہے۔‘‘
(زبور 105, 130:119 )

خُدا کون ہے۔۔۔وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے
کیا آپ ہر کام میں 100فیصد درست ہونا پسند کریں گے؟ خُدا ہے۔ اُس کا فہم ناقابلِ پیمائش ہے۔ وہ ہر صورت حال کے تمام عوامل سے واقف ہوتا ہے بشمول اس سے متعلقہ ماضی اور مستقبل کے واقعات بھی۔ ہم اُسے روزمرہ کی معلومات نہیں دے سکتے اور نہ ہی اُسے درست کام کرنے کی ہدایت یا تحریک دے سکتے ہیں۔ لیکن وہ ایسا کر سکتا ہے کیونکہ اس کے مقاصد نیک ہیں۔ اگر ہم اس پر بھروسہ کریں تو وہ ہمیں مایوس نہ کرے گا اور نہ ہی ہمیں دھوکا دے گا۔ ہر وقت اور ہر حالت میں اس سے سو فیصد درست نتائج کی اُمید کی جا سکتی ہے۔
’’اے میرے خُدا! میں نے تجھ پر توکل کیا ہے۔
مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔‘‘
(زبور 3:25)

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔