کیا آپ تثلیث کی وضاحت کر سکتے ہیں؟

سوال: تثلیث یعنی مقدس تثلیث کی تعلیم کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ؟

ہمارا جواب: میں اور آپ تین رُخی دُنیا میں رہتے ہیں ۔ اس میں پائی جانے والی ہر جسمانی چیز کی شکل مخصوص تناسب سے چوڑی ، لمبی اور گہری ہے۔ایک شخص کا چہرہ کسی دوسرے سے ملتا ہے یا وہ کسی دوسرے کی طرح برتاؤ کرتا ہے یا پھر اس کا رویہ کسی دوسرے شخص سے ملتا ہے۔ لیکن درحقیقت ایک شخص کسی دوسرے کی مانند نہیں ہو سکتا۔ وہ منفرد شخصیات ہیں۔ تاہم خُدا اِس تین رُخی کائنات سے پرے رہتا ہے۔ وہ روُح ہے۔ اور وہ ہماری بانسبت زیادہ پیچیدہ ہے۔
اِسی لئے یسوع یعنی بیٹا باپ سے مختلف ہو سکتا ہے مگر پھر بھی اُس جیسا ہی ہے۔ بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے یعنی خُدا بیٹا، خُدا باپ اور خُدائے روُح القدس۔ لیکن اس بات پر زور دیتی ہے کہ خُدا صرف ایک ہے۔ اگر ہمیں ریاضی کے کلیے سے اسے جاننا ہوتا تو3= 1+1+1 نہیں بلکہ 1=1x1x1 یہ ایسے ہوتا، خُدا تثلیث کا خُدا ہے۔
اس طرح "Tri" کا مطلب تین ہے اور "Unity" کا مطلب ایک ہے یعنی Trinity سے Tri + Unity ۔ خُدا کو تسلیم کرنے کا یہ ایک طریقہ ہے جو بائبل ہم پر ظاہر کرتی ہے کہ خُدا کی تین شخصیات ہیں جن میں خُدائی کی خاصیت ایک جیسی ہے۔ کچھ لوگوں نے تثلیث کے متعلق انسانی وضاحتیں پیش کر نے کی کوشش کی ہے۔O2H سے پانی برف ،اور بھاپ بنتے ہیں۔ (سب شکلیں مختلف ہیں لیکن وہO2H ہی ہیں)۔ ایک اوروضاحت ایک انڈے کی ہے جس کا ایک خول، زردی اور سفیدی ہوتی ہے۔ لیکن یہ وضاحت بیان کرتی ہے کہ خُدا کے (حصّے) ہونگے جبکہ بالکل ایسا نہیں ہے۔
خُدا بیٹا (یسوع) مکمل طور پر کامل خُدا ہے۔ خُدا باپ مکمل طور پر کامل خُدا ہے۔ اور خُدائے روُح القدس بھی مکمل طور پر کامل خُدا ہے۔ ہماری دنیا میں، محدود انسانی تجربہ کے باعث، تثلیث کو سمجھنا مشکل ہے۔ لیکن کلامِ مُقدس میں ہم خُدا کو ابتدا سے اسی طرح دیکھتے ہیں۔ پیدائش 26:1 میں ’ہم‘ اور ’اپنی‘ جمع کے صحیفوں پر غور کیجئے۔ پھر خُدا نے کہا ، ’’ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں‘‘۔
اگرچہ مکمل فہرست نہیں لیکن ذیل میں چند حوالہ جات ہیں جو خُدا کو تثلیث میں بھی واحد ثابت کرتے ہیں۔
’’سُن اے اسرائیل! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے‘‘۔
(استثنا 4:6)
’’میں ہی خُداوند ہوں اور کوئی نہیں۔ میرے سوا کوئی خُدا نہیں۔‘‘ (یسعیاہ 5:45)
’’اور سوا ایک کے اور کوئی خُدا نہیں‘‘ (-1کرنتھیوں 4:8)
’’اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اس کیلئے آسمان کھل گیا اور اُس نے خُدا کے روُح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں‘‘۔ (متی 17-16:3)
’’پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور روُح القدس کے نام سے بپتسمہ دو‘‘۔ (متی 19:28)
یسوع نے کہا ’’مَیں اور باپ ایک ہیں‘‘ (یوحنا 30:10 )
’’جس نے مُجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا‘‘ (یوحنا 9:14 )
’’اور جو مجھے دیکھتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو دیکھتا ہے‘‘۔
(یوحنا 45:12)
’’مگر جس میں مسیح کاروُح نہیں وہ اُس کا نہیں۔‘‘ (رومیوں 9:8)
’’اے یوسف ابنِ داؤد! اپنی بیوی کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر کیونکہ جو اُس کے پیٹ میں ہے وہ روُح القدس کی قدرت سے ہے‘‘۔ (متی 20:1)
’’اور فرشتہ نے جواب میں اُس (مریم) سے کہا روُح القدس تجھ پر نازل ہو گا اور خُدا تعالیٰ کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالے گی اور اس سبب سے وہ مولودِ مُقدس خُدا کا بیٹا کہلائے گا‘‘ (لوقا 35:1)
(یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا) اور مَیں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے یعنی روُحِ حق جسے دُنیا حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ نہ اُسے دیکھتی اور نہ جانتی ہے ۔ تم اسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہو گا‘‘ ۔ ’’۔۔۔اگر کوئی مجھ سے محبت رکھے تو وہ میرے کلام پرعمل کرے گا اور میرا باپ اس سے محبت رکھے گا اور ہم اُس کے پاس آئیں گے اور اُس کے ساتھ سکونت کریں گے‘‘۔
(یوحنا 16:14-23,17)

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔