کیا خدا ہماری دُعاؤں کا جواب دیتا ہے ؟

خدا کیسے ہماری دُعاؤں کا جواب دیتا ہے ؟

دُعا کیسے کریں: دُعائیں جوجواب لاتی ہیں

کیا آپ کسی مضبوط ایماندار شخص کو جانتے ہیں ؟ میَں ایک ایسی ہی ایماندار بہن کو جانتا ہوں ۔ جب میَں ایک ملحد شخص تھا تووہ بہت زیادہ دُعائیں کیا کرتی تھی ۔ وہ ہر ہفتے مجھے اپنے ایمان کی گواہی دیتی اور بتاتی کہ وہ خُدا پر یقین رکھتی ہے کہ وہ اُس کی فکر کرتا ہے ۔ اور میَں ہر ہفتہ اُس کی زندگی میں عجیب کاموں کوظاہر ہوتے دیکھتا ۔یہ سب اُس کی اَنتھک دُعاؤں کااثر تھا ۔کیا آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک ملحد کیلئے ہر ہفتے ان باتوں کا تجربہ کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟ آخرکار کچھ مدت بعد اُس عورت کے متعلق مجھے اپنے منفی خیالات بہت کمزور محسوس ہونے لگے۔
مجھے اِس بات پر حیرانی ہے کہ خدا کیوں اُس کی دُعاؤں کا جواب دیتا تھا ؟اس امر میں قابل ذکر وجہ یہ ہے کہ اُس کا خدا کے ساتھ ایک گہرا رشتہ قائم ہو چکا تھا ۔ وہ ہر روز خداکی آواز کو ہمہ تن گوش سنتی اور اس پر من و عن عمل کیا کرتی ۔بقول اُس کے خدا کو یہ حق حاصل ہے کہ اُس کی زندگی کی سب راہوں کا تعین کرے ۔چونکہ اُس کی دُعاؤں کاجواب مل جاتا تھا وہ بلا جھجک اورحیل و حجت اپنے مسائل ،دُکھوں اورمصیبتوں کوخدا کے سامنے رکھ دیتی تھی ۔میرا خیال ہے کہ اُس کی پُرعزم اور پُر معنی دُعاؤں کی بنیاد کلامِ مقدس ہے ۔ اور خدا بھی چاہتا ہے کہ انسان دن رات اُس کے کلام پر غور کرتا رہے ۔ اِس ایماندار بہن نے بائبل کی درج ذیل آیت کوعملی طورپر اپنی زندگی سے ظاہر کیا ۔’’اور ہمیں جو اُس کے سامنے دلیری ہے اُس کا سبب یہ ہے کہ اگر اُس کی مرضی کے موافق کچھ مانگتے ہیں تووہ ہماری سنتا ہے ۔‘‘
’’ کیونکہ خداوند کی نظر راستبازوں کی طرف ہے او ر اُس کے کان اُنکی دُعاپر لگے ہیں ۔مگر بدکار خداوند کی نگاہ میں ہیں ۔‘‘

خدا ہر کسی کی دُعاؤں کا جواب کیوں نہیں دیتا؟

دُعا ؤں کاجواب نہ ملنے کی جملہ وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ وہ لوگ جن کی دُعائیں قبول نہیں ہوتیں شاید اُنکا خدا کے ساتھ کوئی رشتہ قائم نہ ہو۔ شاید وہ خُدا کی ذات کے قائل ہیں اور کبھی کبھی اُس کی عبادت بھی کرتے ہیں۔ لیکن وہ جن کو کبھی بھی اُن کی دُعاؤں کا جواب نہیں ملا ہو سکتا ہے وہ ہیں جن کا خُدا کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اُنہوں نے ابھی تک تک خُدا سے اپنے گناہوں کی مکمل معافی حاصل نہ کی ہو تو اُس سے مانگنے کا کیا مطلب ہوا اِس مثال کے ذریعہ سے سیکھتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے ابھی تک گناہوں کی مکمل معافی حاصل نہ کی ہو ۔اُنکی دُعاؤں کا جواب نہ ملنے کی کیا وجوہات ہیں؟ کلامِ مقدس ہمیں دُعاؤں کا جواب نہ ملنے کی تمام وجوہات کو بیان کرتا ہے ۔ ’’دیکھو خداوند کا ہاتھ چھوٹا نہیں ہو گیا کہ بچا نہ سکے اور اُسکا کان بھاری نہیں کہ سن نہ سکے۔بلکہ تمہاری بدکرداری نے تمہارے اور خدا کے درمیان جدائی کر دی ہے اور تمہارے گناہوں نے اُسے تم سے روپوش کیا ایسا کہ وہ نہیں سنتا ۔‘‘
یہ ایک فطری عمل ہے کہ خدا کے ساتھ ہم اپنی جدائی کو محسوس کرتے ہیں ۔ جب لوگ خُدا سے دُعا میں کچھ مانگنا شروع کرتے ہیں تو عموماً کیا ہوتا ہے؟ وہ اس طرح سے دُعا کرتے ہیں:’’ اے خدا میَں اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کیلئے تیری مدد چاہتا ہوں .........اورتھوڑی دیر کیلئے رُک کرپھر دُعا کرتے ہیں......میَں یہ جانتا ہوں کہ میَں ایک کامل شخص نہیں۔مجھے تجھ سے مانگنے کا کوئی حق نہیں ‘‘ وغیرہ ۔اُن کے باطن میں شخصی گناہ اور ناکامی پائی جاتی ہے اور وہ لوگ بخوبی یہ جانتے ہیں کہ خُدا بھی اُنکے گناہوں سے واقف ہے۔اور پھر اُن میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ میں کس ہستی سے مذاق کر رہا ہوں؟ ان جملوں سے ہم یہ بات اخذ کر سکتے ہیں کہ شاید انہیں خدا کے رحم کا کچھ اندازہ نہیں یا وہ یہ نہیں جانتے کہ خداایک بار معاف کر دینے پر دوبارہ ہمارے گناہوں کو یاد نہیں کرتا۔ وہ تو اپنے بیش بہا رحم کی بدولت ہمارے قرمزی گناہوں کو برف کی مانند سفید کر دیتا ہے ۔ عین ممکن ہے کہ وہ لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہوں کہ وہ خدا کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ قائم کرسکتے ہیں کیونکہ خدا کے ساتھ مضبوط رشتہ ہی ہماری دُعاؤں کے جواب کی بنیاد ہے ۔

دُعا کیسے کریں :بنیاد

ہمیں پہلے خداکے ساتھ ایک رشتہ قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ فرض کریں کہ ایک شخص (مائیک) کار حاصل کرنے کے درخواست فارم کو لیکر پرنسٹن یونیورسٹی کے صدر کے پاس جائے(جس کو مائیک بالکل نہ جانتا ہو) اور اُس سے کہے کہ ضمانت کے طور پر اُس کے درخواست فارم پر دستخط کرے۔(ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ پرنسٹن یونیورسٹی کا صدر یقیناًکوئی احمق شخص نہیں ہو گا)لہٰذا ان حالات میں مائیک کو یہ ضمانت حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں مل سکتا۔ اسکے برعکس اگراس صدرکی بیٹی اس کی ضمانت طلب کرے تو وہ فوراً راضی ہو جائے گا۔ کیونکہ ایک مضبوط رشتہ ہی اعتماد کی ضمانت ہے ۔
درحقیقت جب کوئی شخص خُدا کا فرزند بن جاتا ہے اور اُس کے رشتے میں پیوست ہو جاتا ہے تو وہ اُس کو جانتا ہے اور اُس کی دعا کو سنتا ہے۔ یسوع نے کہا ’’اچھا چرواہا میں ہوں ۔ ‘‘ میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میں اُنہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔ اور میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔
جب ہم خُدا کی بات کرتے ہیں تو کیا آپ واقعی اُسے جانتے ہیں؟ اور کیا وہ آپ کو جانتا ہے؟ کیا آپ کا اُس کے ساتھ کوئی رشتہ قائم ہے جو آپ کی دُعا کے جواب کی ضمانت ہو ؟ کیا خُدا آ پ سے بہت زیادہ دور ہے۔یا آپ کی زندگی میں خُدا کا صرف ایک تصور ہی ہے؟ اگر خُدا آپ سے بہت زیادہ دور ہے یا آپ کو یقین نہیں کہ آپ خُدا کو جانتے ہیں۔تو آیئے دیکھیں کہ آپ کیسے خُدا کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ کا آغازکر سکتے ہیں۔

کیا خدا واقعی آپ کی دُعا کا جواب دے گا ؟

وہ لوگ جو خداوند یسوع مسیح پر ایمان رکھتے اوراس پر انحصار کرتے ہیں وہ اُن کی زندگی میں اپنی برکات کوافراط سے نازل فرماتا ہے ۔ ’’اگر تم مجھ میں قائم رہو اور میری باتیں تم میں قائم رہیں تو جو چاہو مانگو وہ تمہارے لئے ہو جائے گا ‘‘۔ خداوند یسوع میں رہنا اور اس کے کلام کو اپنے اندر قائم رکھنا اس بات کو ظاہر کرتاہے کہ ہمارا کردار اسکے کلام میں ڈھل چکا ہے ۔ اور ہمارے رویے عین اس کی مرضی کے مطابق ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہی ہم خدا سے اپنی مرضی کے مطابق کچھ مانگ سکتے ہیں ۔ ’’اور ہمیں جو اُ س کے سامنے دلیری ہے اس کا سبب یہ ہے کہ اگر اس کی مرضی کے موافق کچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سنتا ہے ۔ اور جب ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ مانگتے ہیں وہ ہماری سنتا ہے تو یہ بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے اس سے مانگا ہے وہ پایا ہے ۔‘‘
ان آیات سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ خدا ہماری دُعاؤں کا جواب ضرور دیتا ہے لیکن وہ اس میں اپنی مرضی ، محبت ، خواہش اور پاکیزگی کو ضرور مدِ نظر رکھتا ہے ۔
بعض اوقات ہماری جسمانی عقل ہمیں دھوکا دے جاتی ہے ۔ ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ہم اپنی عقل سے اس کی مرضی کو جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اور ہم کسی ایک دُعا کے جواب کو حتمی سمجھ لیتے ہیں ۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔ ہم یہ بھول جا تے ہیں کہ خدا ہماری طرح زمان و مکان کی قید میں نہیں رہتا ۔ اس کی عقل لامحدود ہے ۔اسکے عرفان کی کوئی انتہا نہیں جبکہ انسانی علم و تحقیق جزوقتی اور محدود ہے ۔ اسلئے جب وہ ہماری دُعا کو سنتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے اور ہمارے بہتر مستقبل کو محلوظ خاطر رکھتے ہوئے ہماری دُعاؤں کا جواب دیتا ہے ۔ بعض اوقات اس کے فیصلے ہماری دُعاؤں کے منافی بھی ہو سکتے ہیں ۔

خدا کی مرضی کیا ہے ؟ وہ کیا کرنا چاہتا ہے ؟

یہ مضمون اتنا وسیع ہے کہ اس پر بیسیوں کتابیں تحریر کی جا سکتی ہیں ۔ پوری بائبل میں کئی دفعہ ہم اس بات کی وضاحت پڑھتے ہیں کہ خدا ہمارے ساتھ کس قسم کا رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے ۔ اور وہ کیاچاہتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اس کیلئے کریں ۔ درج ذیل آیات اس مضمون کی روشنی میں پیش کی جاتی ہیں ۔’’ تو بھی خداوند تم پر مہربانی کرنے کیلئے انتظار کرے گا اور تم پر رحم کرنے کیلئے بلند ہوگا کیونکہ خداوند عادل خدا ہے ۔ مبارک ہیں وہ سب جو اُس کا انتظار کرتے ہیں ‘‘۔اسکی مثال بالکل ایسے ہے جیسے کوئی اپنی نشست سے اُٹھ کر ہماری مدد کیلئے آتا ہے ۔’’ اور ہم پر رحم کرنے کیلئے بلند ہوگا ۔‘‘ ’’لیکن خدا کی راہ کامل ہے ۔ خداکا کلام تایا ہوا ہے ۔ وہ ان سب کی سپر ہے جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں ‘‘ ۔ ’’خداوند اُن سے خوش ہے جو اس سے ڈرتے ہیں ۔ اوراُن سے جو اس کی شفقت کے اُمیدوار ہیں۔‘‘
تاہم خدا کی عظیم ترین محبت کا ثبوت اس آیت میں ملتا ہے ۔ یسوع نے کہا ،’’ اس سے زیادہ محبت کوئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کیلئے دے دے ۔‘‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ خداوند یسوع مسیح نے ہمارے لئے اپنی جان ہی دے دی ۔ ’’ اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے ؟ جس نے اپنے بیٹے ہی کو دریغ نہ کیا بلکہ ہم سب کی خاطر اسے حوالہ کر دیا وہ اُسکے ساتھ اور سب چیزیں بھی ہمیں کس طرح نہ بخشے گا ۔‘‘

اَن سنی دُعا کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جب ہماری زندگی میں اموات ، مالی بحران ، بیماری اور مایوسی جیسی صورتِ حال ہو توہمیں کیاکرناچاہئے؟ خدا چاہتا ہے کہ ہم اپنی ساری مشکلات اس کے سامنے رکھیں ۔ حالات چاہے کتنے ہی بے قابو ہو جائیں کلام میں بیان ہے کہ ’’ اپنی ساری فکر اسی پر ڈال دو کیونکہ اس کو تمہاری فکر ہے۔ ‘‘
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حالات ہمارے قابو میں نہیں ۔ ہر صورتِ حال ہماری مرضی اور خواہش کے خلاف ہے ۔ جب ہماری زندگی مکمل ابتری کا شکار ہو جائے تو خدا اسے یکجا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ایک ایماندار کو ثابت قدم اور مضبوط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ’’ خداوند قریب ہے ۔ کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں، دُعا اور منت کے وسیلہ سے شکر گزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں ۔ تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا‘‘۔ قوی امکان ہے کہ خدا آپ کی مشکل کا حل آپ پر ظاہر کر دے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی دوست اپنی زندگی میں سے کوئی تجربہ آپکوبتائے اورآپ کا ایمان مضبوط ہو جائے ۔ لیکن اگر پھر بھی حالات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی واقع نہ ہو تو خدا اپنا اطمینان ہمیں دیتا ہے ۔یسوع نے کہا:’’ میَں تمہیں اطمینان دِیئے جاتا ہوں ۔اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں ۔ جس طرح دُنیا دیتی ہے میَں تمہیں اس طرح نہیں دیتا ۔ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے ۔‘‘
اگر اِن سب کاوشوں کے باوجود حالات ہمارے اختیار میں نہ ہوں بلکہ بد سے بدترین شکل اختیارکر جائیں توسمجھ لیجئے کہ آپکے ایمان کی آزمائش شروع ہوگئی ہے ۔ بائبل کے مطابق ایک ایماندار آنکھوں دیکھے پر نہیں بلکہ اندیکھے پر یقین رکھتا ہے۔ ہم اسے اندھے ایمان کا نام نہیں دے سکتے ۔ اسکی بنیاد خدا کے مضبوط کردارپرمنحصر ہے ۔ اگر کوئی کار گولڈن گیٹ پل کوتیز رفتاری سے عبور کر لیتی ہے تو اس میں ڈرائیور کاکوئی کمال نہیں ۔ کار کا ایک جانب سے دوسری جانب محفوظ پہنچ جانا اُس پل کی مضبوطی پر انحصار کرتا ہے ۔ بالکل ایسے ہی خدا یہ چاہتا ہے کہ ہم اُسکے مضبوط کردار ، لازوال اور ناقابلِ بیان رحم پر ایمان رکھیں۔خدافرماتا ہے ’’ میَں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی اسی لئے میَں نے اپنی شفقت تجھ پر بڑھائی ‘‘۔’’اے لوگو!ہر وقت اس پر توکل کرو ۔ اپنے دل کا حال اُسکے سامنے کھول دو ۔ خدا ہماری پناہ گاہ ہے ۔‘‘

دُعا کیسے کریں: خلاصہ

وہ لوگ جنہوں نے خُدا کو اپنی زندگیوں میں قبول کیا ہے اور اُس کی مرضی کے مطابق چلتے ہیں وہ اُن کی دُعاؤں کا جواب دیتا ہے۔وہ یہ کہتا ہے کہ ہم اپنی ہر قسم کی مشکل کو دُعا میں اُس کے سامنے رکھیں تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اُس کا جواب دے ۔ جب ہم اپنی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اُنہیں خُدا کے سامنے رکھیں تا کہ خُدا ہمیں وہ اطمینان بخشے جس کے باعث ہم اِن مشکلات سے رہائی حاصل کر سکیں۔ ہماری اُمید اور ایمان کی بنیاد خداکاکردار ہے ۔ ہم جتنا زیادہ اُسکے کردار کو سمجھیں گے ہمارا ایمان اور بھروسہ اتنا ہی بڑھے گا ۔
جب آپ خُدا کے ساتھ اپنا شخصی رشتہ قائم کرنے کیلئے پہلی بار دُعا کرتے ہیں تو خُدا اُس کا جواب دیتا ہے۔

(از مرِی لِن ایڈم سَن )

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔