یسوع کے شاگردوں نے چُپ رہنے سے انکار کیوں کیا؟

شاگردوں کے لئے یسوع کے متعلق بات کرنے کا مطلب اذیت اور حتیٰ کہ جان سے مارے جانے کا خطرہ مول لینا تھا۔ وہ کیوں چُپ نہ رہے؟

یہ اعلان کرنے کے لئے کہ یسوع مر گیا اور پھر زندہ ہو گیا، بارہ میں سے ہر ایک شاگرد نے اپنے خاندانوں اور پیشوں کو چھوڑا اور اکثر دور دراز ممالک کا تنہا سفر کیا؂ ۔ یسوع کی مصلوبیت کا اعلان کرنے کی وجہ سے انہیں پیٹا گیا، قید کیا گیا اور بہت سے شاگردوں کی اذیت دے کر جان لی گئی۔
کیا یہ اعلان کرنے کے لئے اُن کے پاس کوئی بنیاد تھی؟ ہاں! اِس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یسوع کی مصلوبیت کے صرف تین دن بعد اُس کی پیش گوئی کے مطابق اُس کی قبر خالی تھی۔ نقطہ اختلاف یہ ہے کہ اُس کا بدن کہاں گیا؟ کچھ کا یہ خیال ہے کہ یسوع کے شاگرد اُسے چرا لے گئے اور یہ قصہ گھڑ دیا کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ تاہم اگر اُس کے شاگردوں نے ایسا کیا ہوتا تو کیا وہ ایک جھوٹ کیلئے جسے وہ جانتے تھے خود کو مصلوب ہونے دیتے۔ یہ بے معنی لگتا ہے۔ کیا آپ کسی چیز کے لئے اپنی جان دیں گے جسے آپ جانتے ہیں کہ جھوٹ ہے؟ کیا تاریخی حقائق بے معنی ہیں؟ یسوع کی تذلیل کی گئی، مارا گیا، کوڑے لگائے گئے، کیلوں سے صلیب پر لٹکا دیا گیا جہاں وہ عوام کے سامنے بطور نمائش مصلوب ہوا۔ اس بات کی یقین دہانی کرنے کے لئے کہ وہ مر گیا ہے اُس کی پسلی میں نیزہ مارا گیا۔ اُسے پتھر کی قبر میں دفن کیا گیا اور مذہبی رہنماؤں کے کہنے پر قبر پر رومی سپاہیوں کا پہرہ لگایا گیا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اُس کے بدن کو چرانے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن تیسرے دن ، سپاہی بھاگ چکے تھے، قبر خالی تھی اور اُس کے اندر بطور شہادت صرف کفن باقی تھا۔
اسی دن سے شاگردوں نے کہا کہ انہوں نے یسوع کو جسمانی صورت میں کئی دفعہ دیکھا تھا۔ اور اِسی طرح سینکڑوں دوسرے لوگوں نے بھی۔ انہوں نے اُس کے ساتھ طویل گفتگو کی اور کھانا کھایا اور یہ سب کچھ مار کھانے ، مصلوب ہونے اور نیزہ کھانے کے سبب سے اُس کی موت کے بعد ہوا۔ جب یسوع کی مصلوبیت کے متعلق بات نہ کرنے کا حکم ملا تو انہوں نے جواب دیا، ’’ہم نے جوکچھ دیکھا اور سنا ہے اُس کو بیان کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔‘‘
اِن شاگردوں نے وہ سب کچھ بیان کر کے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جس پر انہیں پورا یقین تھا یعنی یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا اور اُس نے خُدا کا بیٹا ہوناکا جو دعوی ٰ کیا تھا اسے پورا کر دکھایا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ کو یقیناًاُن ابتدائی شاگروں کی طرح یسوع پر ایمان لانے کی وجہ سے جان سے مارا تو نہیں جائے گا لیکن آپ اُس کی مصلوبیت کی سچائی کے متعلق یقین کر سکتے ہیں اور یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ اُن 12شاگردوں کے لئے اہم کیوں تھا۔ اگر آپ یسوع مسیح کی ذات اور اُن حقائق کے بارے میں جو اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو بیان کرتے ہیں مزید جاننا چاہتے ہیں تو مضمون ’’اندھے اعتقاد سے پرے‘‘ کا
مطالعہ کریں۔

بارہ شاگرد

  1. اندریاس مصلوب ہوا
  2. برتلمائی پیٹ کر مصلوب کیا گیا
  3. حلفی کا بیٹا یعقوب سنگسار کر کے مارا گیا
  4. زبدی کا بیٹا یعقوب سر قلم کیا گیا
  5. یوحنا ایمان کی وجہ سے جلا وطن ہوا اور بڑھاپے میں وفات پائی۔
  6. یہوداہ (اسکریوتی نہیں) سنگسار کر کے مارا گیا۔
  7. متی نیزہ مار کر ہلاک کیا گیا۔
  8. پطرس اُلٹا مصلوب ہوا۔
  9. فلپس مصلوب ہوا۔
  10. شمعون مصلوب ہوا۔
  11. توما نیزہ مار کر ہلاک کیا گیا۔
  12. ارمتیا سنگسار کر کے مارا گیا۔

ذرائع : فاکس (شہیدوں کی کتاب)

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔