زندگی اتنی مشکل کیوں ہے؟

’’کیوں؟‘‘ جب زندگی میں مشکل آتی ہے تو کیا اطمینان کا کوئی راستہ ہوتا ہے؟

لوگ کینسر کے مرض میں کیوں گرفتار ہوتے ہیں؟ زلزلے کیوں پورے پورے شہر تباہ کر دیتے ہیں؟ لوگ اپنے خاندان کو صرف دو وقت کی روٹی دینے کیلئے اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟
شاید لاشعوری طور پر اکثر ہم یہ سوالات خود سے پوچھیں۔ لیکن شعوری طور پر ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہم اپنی زندگیوں میں اتنے زیادہ مصروف ہیں کہ ہم یہ نہیں سوچتے کہ ایسا ’’کیوں‘‘ ہے؟
لیکن پھر کوئی واقع ہمیں خواب غفلت سے جگا دیتا ہے۔ ہمارے والدین میں طلاق ہو جاتی ہے۔ گلی میں کسی لڑکی سے جنسی زیادتی ہو جاتی ہے ۔ کسی عزیز کو کینسر جکڑ لیتا ہے۔ یہ سب واقعات ہمیں تھوڑی دیر کیلئے ہوش دلاتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد ہم پھر غفلت میں سو جاتے ہیں۔ یہ حالت اس وقت تک رہتی ہے جب تک کوئی دوسرا حادثہ پیش نہ آئے۔ پھر ہم سوچتے ہیں کہ کوئی گڑبڑ ہے۔ کوئی کام بہت ہی زیادہ غلط ہے۔ اور زندگی اس طرح بسر نہیں ہونی چاہئے۔
پس یہ سب بُری چیزیں کیوں واقع ہوتی ہیں؟ یہ دُنیا ایک اچھی جگہ ’کیوں‘ نہیں ہے؟
ہمیں اِس ’کیوں‘ کا جواب بائبل میں ملتا ہے۔ لیکن یہ وہ جواب ہے جسے زیادہ تر لوگ سننا نہیں چاہتے۔ ہماری دُنیا اگر اس طرح سے چل رہی ہے تو یہ ہماری وجہ سے ایسی ہے۔

یہ عجیب لگتا ہے؟

وہ کونسی ایسی چیز یا ہستی ہے جو اِس دُنیا کو تبدیل کر سکتی ہے؟ وہ کونسی ایسی چیز یا ہستی ہے جو ہر کسی کی زندگی کو ہر وقت دُکھوں سے آزاد کر سکتی ہے؟
خُدا ایسا کر سکتا ہے خُدا اِس مقصد کو حاصل کر سکتا ہے لیکن وہ نہیں کرتا۔ شاید اس وقت نہیں جس کی وجہ سے ہم اُس کے ساتھ ناراض ہو جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں، ’’خُدا قادرِ مطلق اور محبت کرنے والا نہیں۔ اگر وہ ایسا ہوتا تو پھر یہ دُنیا جیسی ہے ویسی نہ ہوتی۔
ہم یہ اُمید کرتے ہیں کہ خُدا اِسے تبدیل کر دے گا۔ ہماری اُمید یہ ہے کہ خُدا پر الزام لگانے سے وہ اپنے طریقہ کار کو تبدیل کر دے گا۔
لیکن خُدا کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ اُسے اِس بات کی پرواہ ’کیوں‘ نہیں؟
خُدا کو جنبش نہیں۔ وہ فوری طور پر چیزوں کو تبدیل نہیں کرتا کیونکہ ہم جو کچھ مانگتے ہیں وہ ہمیں دیتا ہے یعنی جس دنیا میں ہم اُسے غیرحاضر اور غیرضروری سمجھتے ہیں۔
آدم اور حوا کی کہانی کو یاد کیجئے؟ انہوں نے ’ممنوعہ پھل‘ کھایا۔ وہ پھل خُدا کی مرضی کے خلاف چلنے اور اُس کے حکم کو رَد کرنے کا ایک خیال تھا۔ کیونکہ آدم اور حوانے یہ سمجھا کہ وہ خُدا کے بغیر اُس جیسے بن جائیں گے۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ خُدا کے وجود سے برتر اور اس کے رشتے سے افضل کوئی چیز ہے۔ اور اس طرح ہماری یہ دنیا اس میں موجود تمام تر برائیوں کے ساتھ اُن کے چناؤ کا نتیجہ بنی۔
کیا اُن کی کہانی ہم سب کی کہانی نہیں؟ اگر ظاہراً نہیں تو اپنے دلوں میں ہم یہ نہیں کہتے کہ اے خُدا! میرا خیال ہے کہ میں تیرے بغیر یہ کام کرلوں گا۔ میں اکیلا ہی یہ سفر طے کر لوں گا۔ تیرا مدد کیلئے پوچھنے کا شکریہ!
ہم سب خُدا کے بغیر زندگی گزارنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ شاید ہم سب کا یہ خیال ہے کہ خُدا سے بھی اہم اور گراں بہا کوئی چیز ہے۔ مختلف لوگوں کیلئے یہ سب چیزیں مختلف ہیں لیکن ان کی سوچ ایک ہی ہے کہ خُدا زندگی کی اہم ترین ہستی نہیں ہے۔ اور میں نے درحقیقت اس کے بغیر بہت سے کام کیے ہیں۔

خُدا کا جواب کیا ہے؟

وہ ہمیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی یادوسروں کی مرضی کی وجہ سے جو کہ خُدا کے خلاف ہوتی ہے دردناک نتائج کا سامنا کرتے ہیں مثلاً قتل ، جنسی زیادتی، لالچ، جھوٹ بولنا/دھوکا دینا، حرامکاری، اغوا، تہمت وغیرہ وہ سب لوگ جنہوں نے خُدا کو اپنی زندگی میں آنے اور اِسے تبدیل کرنے سے روکا ہے اِن سب معاشرتی برائیوں کو بہتر بیان کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کو اپنی مناسبت سے بسر کرتے ، اپنے اور دوسروں کے لئے مصیبت کا باعث بنتے ہیں۔
ان سب معاشرتی برائیوں کے متعلق خُدا کی کیا رائے ہے؟ وہ آدم بیزار نہیں ہے۔ درحقیت خدا ہمیشہ ہمارا مشتاق رہتا ہے، وہ شفیق ہے اور ہر وقت اِس اُمید پر رہتا ہے کہ ایک دن ہم اُس کے پاس لوٹ آئیں گے اور وہ ہمیں ابدی زندگی بخشے گا۔ یسوع نے کہا، ’’اے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تم کو آرام دوں گا۔‘‘ لیکن سب لوگ اس کے پاس جانے کو تیار نہیں۔ یسوع نے اِس صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا: ’’اے یروشلیم! اے یروشلیم! تو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پاس بھیجے گئے اُن کو سنگسار کرتا ہے! کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے اِسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں مگر تم نے نہ چاہا!‘‘ ایک بار پھر یسوع اپنے ساتھ ہمارے رشتے کے متعلق بیان کرتا ہے۔ ’’دُنیا کا نور میں ہوں۔ جو میری پیروی کرے گا اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا۔‘‘
لیکن جب زندگی جانبدار ہو تو کیا کریں؟ اور جب دوسرے لوگوں کی وجہ سے ہمارے حالات میں ابتری آ جائے تو کیا ہو؟ جب ہم بدترین حالات کا شکار ہوں تو ہمیں یہ سوچ کر تسلی حاصل کرنی چاہئے کہ یسوع نے بھی دوسروں کی خاطر بُرا سلوک برداشت کیا ۔ خُدا اِس بات سے کلی طور پر واقف ہے کہ آپ کِن حالات کا شکار ہیں۔
یسوع نے ہماری خاطر جو اذیت برداشت کی یعنی جب اُس کے دوستوں نے اُسے چھوڑ دیا، اُس پر ایمان نہ لانے والوں نے اُس کا مذاق اُڑایا، مصلوبیت سے پہلے اُسے مارا اور اذیت دی گئی،اور پھر صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا گیا، لوگوں میں شرم کا باعث بنایا گیا اور آہستہ آہستہ دم گھٹنے سے اُس کی جان گئی اس سے زیادہ دردناک حالات ہماری زندگی میں نہیں ہو سکتے۔ اس نے انسان کو پیدا کیا لیکن پھر بھی اُس نے اِسے آزادی دی کہ اُ سکے ساتھ یہ سلوک کرے اور اُس کے کلام کو پورا ہونے دے تا کہ وہ ہمیں گناہوں سے آزاد کرے یسوع کیلئے یہ حیران کُن بات نہ تھی۔ وہ پہلے ہی اس ذلت و رسوائی سے واقف تھا۔ ’’اور یروشلیم جاتے ہوئے یسوع بارہ شاگردوں کو الگ لے گیا اور راہ میں اُن سے کہا۔ دیکھو ہم یروشلیم کو جاتے ہیں اور ابنِ آدم سردار کاہنوں اور فقیہوں کے حوالہ کیا جائے گا اور وہ اُس کے قتل کا حکم دیں گے۔ اور اسے غیرقوموں کے حوالہ کریں گے تا کہ وہ اسے ٹھٹھوں میں اُڑائیں اور کوڑے ماریں اور مصلوب کریں اور وہ تیسرے دن زندہ کیا جائے گا۔‘‘
فرض کریں کہ آپ اپنے ساتھ درپیش آنے والی مصیبت کو پہلے سے جان لیتے ہیں۔ اسی طرح یسوع جذباتی اور نفسیاتی کرب کو بھی سمجھتا ہے۔ جس رات اُسے پتہ چلا کہ اُسے پکڑوایا جائے گا اُس نے اپنے دوستوں کو ساتھ لیا اور دُعا کرنے چلا گیا۔ ’’اور پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر غمگین اور بے قرار ہونے لگا۔ اُس وقت اُس نے اُن سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے۔ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو۔ پھر ذرا آگے بڑھا اور منہ کے بل گِر کر یوں دُعا کی کہ اَے میرے باپ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔ تو بھی نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔‘‘ اگرچہ یسوع اپنے تین دوستوں کے ساتھ تھا وہ اُس کے درد کے عالم کو نہ جان سکے اور جب وہ دُعا سے لوٹا تو وہ سو رہے تھے۔ لہٰذا یسوع اس بات کو جانتا ہے کہ دردوالم کو تنہا برداشت کرنا کتنا دشوار ہوتا ہے۔
یوحنا اپنی انجیل میں اِس واقعہ کا خلاصہ بیان کرتا ہے:’’وہ دُنیا میں تھا اور دُنیا اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئی اور دُنیا نے اُسے نہ پہچانا۔ وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا۔ لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔ خُدا نے بیٹے کو دُنیا میں اِس لئے نہیں بھیجا کہ دُنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اِس لئے کہ دُنیا اُس کے وسیلہ سے نجات پائے۔ کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تا کہ جوکوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‘‘
بلاشبہ یہ دُنیا دُکھ درد سے بھری پڑی ہے۔ ان میں سے کچھ خودغرض اور قدورت پسند لوگوں کے کاموں سے ظاہر ہوتے ہیں اور کچھ کو اس زندگی میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن خُدا خود کو ہم پر ظاہر کرتا ہے۔ خُدا ہماری ضرورتوں اور دُکھوں سے واقف ہے اور ہمیں بھی وہ معلومات دیتا ہے جو اُس کے پاس ہے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، ’’میں تمہیں اطمینان دیئے جاتا ہوں۔ اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں، جس طرح دُنیا تمہیں دیتی ہے میں تمہیں اُس طرح نہیں دیتا۔ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔‘‘ اس لئے مشکلات کو دیکھ کر خوفزدہ ہونا بالکل جائز ہے لیکن خُدا ہمیں اپنا اطمینان دے سکتا ہے جو ہماری مشکلات سے بڑا ہے۔ چونکہ وہ ہمارا خالق خُدا ہے۔ وہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ اُس نے اِس کائنات کو خلق کیا۔
وہ اپنی شان و شوکت اور عظمت کے باوجود ہماری چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کو جانتا اور اُن کو پورا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں اُس پر بھروسہ رکھیں تو وہ ہماری جانوں کو محفوظ رکھے گا۔ یسوع نے کہا، ’’میں نے تم سے یہ باتیں اس لئے کہیں کہ تم مجھ میں اطمینان پاؤ ۔ دُنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو میں دُنیا پر غالب آیا ہوں۔‘‘ و ہ ہمارے سب سے بڑے خوف یعنی موت میں سے گزرا اور اُس پر غالب آیا۔ اور اگر ہم اُس کا یقین کریں گے تو ہمیں زندگی کی مشکلات میں سے نکال کر ابدی زندگی میں لے جائے گا۔
ہم اپنی مرضی سے اِس زندگی کو خُدا کے ساتھ یا اُس کے بغیر گزار سکتے ہیں۔ یسوع نے دُعا کی، ’’اے عادل باپ! دُنیا نے تو تجھے نہیں جانا مگر میں نے جانا اور انہوں نے بھی جانا کہ تو نے مجھے بھیجا۔ اور میں نے اُنہیں تیرے نام سے واقف کیا اور کرتا رہوں گا تا کہ جو محبت تجھ کو مجھ سے تھی وہ اُن میں ہو اور میں اُن میں ہوں۔‘‘

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔