خُدا کہاں ہے؟

خُدا کہاں ہے؟ لوگ پوچھتے ہیں، ’’مُجھے خُدا دکھاؤ۔‘‘ لیکن اگر خُدا پوشیدہ ہے تو وہ کیسے خود کو ظاہر کر سکتاہے؟

فرض کیجئے کہ ایک ہموار کاغذ کے ٹکڑے پر دو لوگ ہیں۔ اُن کی صرف دو سمتیں ہیں یعنی لمبائی اور چوڑائی لیکن کوئی گہرائی نہیں اور یہ کاغذ ہی اُن کی زندگی کی وسعت ہے۔ کیا وہ آپ کو دیکھ سکتے ہیں؟ نہیں وہ صرف اُس کاغذ میں ہی دیکھ سکتے ہیں (جوان کی دنیا ہے‘۔ ان میں گہرائی کا کوئی تصور نہیں۔ فرض کریں آپ اپنی انگلی سے انہیں چھوتے ہیں۔ اب کیا وہ آپ کو دیکھتے ہیں؟ وہ آپ کے پورے بدن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن وہ آپ کی انگلی کے کنارے کو دیکھ سکتے ہیں جو ان کی دنیا میں داخل ہوئی۔

خُدا کہاں ہے؟ خُدا پوشیدہ ہے۔

یہ خُدا کے ساتھ ہماری حالت کی مماثلت ہے۔ خُدا ہماری سمتوں سے پرے ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ زمان و مکان کی قید سے دور رہ سکتا ہے۔ اس لئے اسے ’’دیکھ پانا‘‘ مشکل ہے۔ ہم اُن ہموار لوگوں کی طرح ہیں جو دو سمتی کاغذ پر رہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں دیکھ سکتے کہ تیسری سمت میں کیا ہے۔ لیکن اگر ہم عمومی جائزہ لیں تو ہم چار سمتوں میں رہتے ہیں (لمبائی ، چوڑائی، گہرائی، وقت) مگر خُدا ان سے پرے رہتا ہے۔
پس ہم اِس ہستی کو کیسے جان سکتے ہیں؟ بالکل اسی طرح جیسے کاغذ پر بسنے والے ہموار لوگ ہمیں نہ جان سکے جب تک اُنہیں چھوا نہ گیا ہم خُدا کو بھی نہیں جان سکتے اس سے قبل کہ وہ خود کو ہم پر ظاہر نہ کر دے۔ اسے ہماری دنیاکے کاغذ کو چھونا ہو گا۔ اور خُدا کو ہماری سمتوں میں داخل ہونا پڑے گا۔

خُدا کہا ں ہے؟ پوشیدہ خُدا نے خود کو ظاہر کیا

جب ہم انسانی تاریخ کو پڑھتے ہیں بالخصوص مذہبی تاریخ تو کیا ہم کوئی ایسا واقع پڑھتے ہیں جہاں ہماری دُنیا کے کاغذ کو خُدانے چھوا؟ فرض کریں کہ خدا نے یسوع مسیح کی صورت میں ہماری کاغذی دنیا کو چھوا۔ یسوع نے خُدا ہونے کا دعویٰ کیا: اُس نے کہا کہ اُسے دیکھنا خُدا کو دیکھنا ہے، اُس نے کہا وہی خُدا کی طرف سے آیا ہے۔ اور اُسی نے لوگوں کے گناہوں کو معاف کیا جو کہ صرف خُدا کے اختیار میں ہے۔ نئے عہدنامہ میں بہت سے حوالہ جات یسوع کے خُدا ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ وہ خُدا ہے جس نے جسم اختیار کیا اور ہمارے درمیان رہا۔ وہ اندیکھے خُدا کی صورت ہے۔
اگر ہم ہموار لوگ ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ کثیر سمتی خالق خدا انسانی روپ میں ہماری چار سمتی دنیا میں داخل ہوا۔ اُس نے خود کو ہم پر ظاہر کیا۔ لیکن خُدا نے ایسا کیوں کیا؟

خُدا کہاں ہے؟ وہ زمین پر کیوں آیا؟

ایک بوڑھے کسان کے متعلق کہانی سنائی جاتی ہے کہ وہ اپنے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کے گھر کے ساتھ غلہ خانہ تھا۔ موسم سرما کی ایک سرد رات کو پرندوں نے جان لیوا سردی سے بچنے کے لیے اُس کے گرم کمرے کی کھڑکی سے ٹکرانا شروع کر دیا۔ تاہم بوڑھے شخص نے باہر جا کر غلہ خانہ کے دروازے کو کھول دیا۔ غلہ خانہ میں سردی کی شدت کم تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو ہلایا اور پرندوں سے چلا کر کہا کہ وہ بچنے کے لئے غلہ خانہ میں چلے جائیں۔ لیکن پرندے اُس کی آواز کو نہ سمجھ سکے۔
اس وقت بوڑھے شخص نے خواہش کی کہ کاش وہ اُن پرندوں کی طرح بن سکتا۔ اگر وہ ایک پرندہ بن سکتا تو وہ پرندوں کی جان بچانے کے لیے انہیں غلہ خانہ میں بھیج سکتا تھا۔ اُسی وقت یہ بھید اُس پر کھل گیا کہ یسوع زمین پر کیوں آیا تھا۔ اگرچہ بوڑھا شخص پرندہ نہ بن سکا لیکن خُدا نے اِنسانی صورت اختیار کی۔ اور اس نے ہمیں نجات دی۔ ’’کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تا کہ جوکوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‘‘

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔