یسوع پر ’’بھروسہ‘‘ رکھنے کا کیا مطلب ہے؟

سوال: یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے لیکن میں یہ کبھی سمجھ نہیں پایا کہ یسوع پر بھروسہ رکھنے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔

ہمارا جواب: اوّل، یسوع پر بھروسہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود پر نہیں بلکہ یسوع پر انحصار کرتے ہیں کہ وہ آپ کو آسمان پر لے جائے۔ ہم اپنے اچھے کاموں کی بدولت جو خُدا کی نظرمیں قابل قبول ہیں آسمان تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کی بجائے ہمیں یہ یاد کر کے کہ یسوع ہمارے گناہوں کی خاطر صلیب پر موا اپنے گناہوں سے معافی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جو اس نے صلیب پر کیا وہی گناہوں سے معافی حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
بائبل یہ بیان کرتی ہے۔۔۔
’’اس شخص کی سب نبی [پرانا عہدنامہ] گواہی دیتے ہیں کہ جو کوئی اُس (یسوع) پر ایمان لائے گا اُس کے نام سے گناہوں کی معافی حاصل کرے گا‘‘۔ (اعمال 43:10) ’’ہم کو اُس میں اُس کے خون کے وسیلہ سے مخلصی یعنی قصوروں کی معافی اُس کے اس فضل کی دولت کے موافق حاصل ہے‘‘۔ (افسیوں 7:1)
جب کوئی شخص اپنے گناہوں کی معافی کیلئے مسیح پر بھروسہ رکھتا ہے تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ ’’اس لئے اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے۔ پرانی چیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو وہ نئی ہو گئیں‘‘۔ (2-کرنتھیوں 17:5) اور وہ شخص یسوع کا پیروکار بن جاتا ہے۔ یسوع کا پیروکار ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف گناہوں کی معافی بلکہ زندگی کے دوسرے حصوں میں بھی یسوع پر انحصار کرتا ہے۔
مثلاً یسوع نے کہا کہ وہ ایک اُستاد ہے۔ (یوحنا 13:13-14 ) یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ وہ روُح القدس کو بھیجے گا اور وہ اُنہیں سب چیزیں سکھائے گا (یوحنا 26:14) اور سچائی کی طرف ان کی رہنمائی کرے گا۔ (یوحنا 13:16) خُدا ایک شخص کو اپنے راستے اور اپنی سچائی سکھاتا ہے۔ ہماری قدروں اور رویئے کے لحاظ سے وہ ہماری سوچوں میں سے بُری باتوں کو نکال دیتا ہے اور ان کی جگہ اپنے نظریہ سے صحیح باتیں بھر دیتا ہے۔ یہ ایک اور طریقہ ہے جس سے خُدا ہم سے محبت کرتا ہے۔ وہ سچائی کو جانتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہماری زندگی سچائی پر قائم ہو۔یسوع نے کہا:
’’پس جو کوئی میری یہ باتیں سنتا اور ان پر عمل کرتا ہے وہ اس عقلمند آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا۔ اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اس گھر پر ٹکریں لگیں لیکن وہ نہ گِرا کیونکہ اُس کی بنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی‘‘۔ (متی 8-25:24)
*۔۔۔’’اگر تم میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے۔ اور سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی‘‘۔ (یوحنا 31:8-32)
’’اے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ ۔ میں تم کو آرام دوں گا۔ میرا جوا اپنے اُٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی‘‘۔ (متی 28:11-29 )
مسیح کے پیچھے چلنے میں سب سے اہم بات اُس سے سیکھنا ہے۔ جب ہم بطور اُستاد اُس پر انحصار کرتے ہیں تو وہ نئی زندگی کی جانب ہماری رہنمائی کرتا ہے جو اُس کی مرضی اور سچائی کے عین مطابق ہے۔ وہ ہمیں زندگی بسر کرنا اور دُعا کرنا سکھاتا ہے۔ جب ہم سیکھ جاتے ہیں کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے تو پھر ہم اُسکی قوت اور قدرت (روُح القدس) پر توکل کرتے ہیں کہ وہ ہمیں وہی کام کرناسکھائے۔
مسیح کے پیچھے چلنے کا مطلب ہے اس پر مکمل طور پر توکل کرنا۔ اس نے اپنے شاگردوں سے کہا ، ’’میں انگور کا درخت ہوں تم ڈالیاں ہو۔ اور جو مجھ میں قائم رہتا ہے اور میں اُس میں وہی بہت پھل لاتا ہے کیونکہ مجھ سے جُدا ہو کرتم کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ (یوحنا 5:15)

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔