غیریقینی دُنیا میں ذہنی سکون

مستقبل کی پرواہ کئے بغیر اضطراب اور پریشانی کے باوجود ذہنی سکون میسر آ سکتا ہے۔

دُنیا یا ہماری اپنی شخصی زندگیوں میں چاہے کچھ بھی ہو، کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں ہم استحکام حاصل کر سکتے ہیں؟ کیا ہم زندگی اور دُنیا کے حالات کے باوجود مستقبل میں اُمید کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں؟ عصرحاضر میں بہت سے طلباء خُدا کی قابل بھروسہ شخصیت کے طور پر قدر کرتے ہیں ۔ ہمارے اردگرد دُنیا ہمیشہ سے تغیر پذیر رہی ہے لیکن خُدا تبدیل نہیں ہوتا۔ وہ قابل بھروسہ اور اٹل ہے۔ وہ فرماتا ہے، ’’کیا میرے سوا کوئی اورخُدا ہے؟ نہیں کوئی چٹان نہیں میں تو کوئی نہیں جانتا۔ کیونکہ میں لاتبدیل ہوں‘‘۔ خُدا ہمیشہ سے موجود ہے۔ اُسے پرکھا جا سکتا ہے۔ ’’وہ کل ، آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘۔ اور خُداہمیں اپنی طرف سے ذہنی اطمینان دے کر، ہمارے دلوں کو بے خطر آرام دے کر خودکو ہم پر ظاہر کرسکتا ہے۔

کیا ذہنی سکون ممکن ہے؟

سٹین فورڈ سے حالیہ گریجوایٹ ، ہیتھر نے اس کو ایسے بیان کیا:’’خُدا کے ساتھ حقیقی زندگی کے رشتہ میں منسلک ہونا روزمرہ کی متزلزل اور خوبصورت حقیقت ہے۔ ایک ایسا آفاقی ساتھ ہے جسے میں اِس دُنیا کیلئے داؤ پر نہیں لگاؤں گی ۔ مجھے اتنی زیادہ قدر و منزلت اور محبت ملی ہے کہ میں اُسے مناسب طور پر بیان کرنے کی مخلص اُمید کر سکتی ہوں۔
ہیموفلیل کا طالب علم سٹیونے اُس وقت استحکام کی تلاش کی جب اُسے معلوم ہوا کہ ناقص خون کی منتقلی کے باعث اسے ایچ۔ آئی۔ وی کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔ شروع میں تو وہ بے حد مایوس ہوا۔ اُس نے خُدا کو اس کا قصور وار ٹھہرایا۔ پھر سٹیو نے خُدا کو ڈھونڈا۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُس نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں لاتعداد کالجوں کا سفر کیا (بہت زیادہ درد برداشت کرتے ہوئے) اور اپنے ساتھی طالب علموں کو بتایا کہ وہ کیسے خُدا کو جان سکتے تھے اور اُس کی طرح کیسے خُدا کے اطمینان کو حاصل کر سکتے تھے۔ خُدا فرما چکا ہے، ’’میں تمہیں اطمینان دیئے جاتاہوں۔ اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں۔ جس طرح دُنیا دیتی ہے میں تمہیں اُس طرح نہیں دیتا۔ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔ دُنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہولیکن خاطر جمع رکھو میں دُنیا پر غالب آیا ہوں۔‘‘ سٹیو کی طرح دوسرے طلبانے بھی سیکھا ہے کہ اِس زندگی میں چاہے کچھ بھی ہو، یہ دُنیا کا خاتمہ نہیں ہے کیونکہ یہ دُنیا اختتام نہیں ہے۔

مورچوں کا خُدا

یقیناًبہت سے لوگ خُدا کی طرف رجوع لانے سے پہلے بدترین حالات کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ جنگِ عظیم دوم کے ایک پاسبان (ملٹری چیپلن) نے بتایا ، ’’مورچوں میں کوئی ملحد نہیں ہوتا‘‘۔ جب زندگی میں خوشحالی ہوتی ہے تو لوگوں کو خُدا کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن جب حالات بگڑ جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم خندوق میں ہیں تو اکثر رویوں میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ ورجینیا کی ایک طالبہ نے خُدا کی جانب اپنے راستے کی اس طرح وضاحت کی ’’میرا خیال تھا کہ میں ایک مسیحی تھی اسی لئے ہر اتوار چرچ بھی جاتی لیکن مجھے خُدا کے بارے میں کچھ بھی علم نہ تھا۔ ہائی سکول میں میرا آخری سال بھی گزشتہ تین سالوں کی طرح تھا۔
میں اپنا بیشتر وقت شراب میں متوالی ہونے یا کسی ایسے شخص کو ڈھونڈنے میں صرف کرتی جو مجھ سے پیار کرے۔ میں باطنی طور پر موت کی حالت میں تھی اور اپنی زندگی پر میرا قابو نہ تھا۔ جب میں کالج میں پہنچی تو مجھے خیال آیا چونکہ میں اتنا زیادہ اپنی زندگی کو ختم کرنے کے در پر تھی اس لئے مجھے زندگی کی کوئی اُمید حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ اس کے نتیجہ میں میں نے خُدا کو دعوت دی کہ میری زندگی میں آئے۔ وہ مجھ پر محبت، حفاظت، معافی، مدد، آرام ،قبولیت اور مقصدِ حیات ظاہر کر چکا تھا۔ میں نے جانا کہ وہ میری قوت ہے اور اگر میں خودکو اُس کے ہاتھوں میں نہ دیتی تو آج زندہ نہ ہوتی۔‘‘ کون جانتا ہے کہ مستقبل میں کیا رکھا ہے؟ بہت سے طلبا یہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ کسی مورچے میں ہیں۔ زندگی ایک جنگ ہو سکتی ہے۔ ہمارا ذہنی سکون ریزہ ریزہ ہو سکتا ہے۔ ان لمحات میں جب شعلے اُٹھنا شروع ہو جاتے ہیں تو ہم خُدا کی جانب بڑھتے ہیں۔ یہ درست ہے کیونکہ خُدا اپنی جگہ پر قائم ہے اور ہماری زندگی میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ وہ فرماتا ہے، ’’میں ہی یہواہ ہوں اور میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔۔۔تم میری طرف متوجہ ہو اور نجات پاؤ کیونکہ میں خُدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں‘‘۔ ہاں، خُدا کو ایک ’’عصا‘‘ کے ساتھ تشبیہ دی جا سکتی ہے اور یہ کہنا بجا ہے کہ وہ ہی حقیقی طورپر اس خاصیت کا مالک ہے۔

پوشیدہ مورچے

تاہم کچھ لوگ حالات اچھے ہونے پر بھی خُدا کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ ٹیکساس میں ایک طالب علم جان نے بیان کیا : ’’میری تعلیم کے آخری سال میں میں ہر وہ چیز حاصل کر چکا تھا جو لوگ بتاتے تھے کہ مجھے بھر دے گی یعنی میں نے کیمپس کی تنظیموں میں قیادت کے کردار ادا کیے۔ مجالس میں گیا، بہترین نمبر حاصل کیے۔ اُن لڑکیوں سے محبت کی جن کی طرف میں بہت زیادہ مائل تھا۔ میں کالج کے اختتام پر جو کچھ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا میں نے کیا لیکن پھر بھی میں خالی تھا۔ ابھی کوئی کام کرنا باقی تھا اور میرے سامنے کوئی مقصد بھی نہ تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ میں زندگی میں ایسے محسوس کر رہا تھا لیکن میں نے لوگوں پر یہ ظاہر نہ ہونے دیا تھا‘‘۔
جب ہر کام بالکل ٹھیک چل رہا ہو زندگی پھر بھی ہمارے باطن میں ایسے مورچے بنا سکتی ے جو کہ آنکھوں سے شاید اوجھل ہوں لیکن دل سے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ایلی نائے میں ایک طالبہ، بیکھی اس منظر کو اس طرح سے بیان کرتی ہے: ’’کتنی بار تم نے یہ سوچا ہو گا کہ اگر تمہارے پاس صرف فلاں طرز کا لباس ہوتا، فلاں دوست ہوتا یا کسی مخصوص جگہ کی سیر کی ہوتی تو تمہاری زندگی خوشحال اور مکمل ہوتی؟ اور کتنی دفعہ تم نے وہ قمیص خریدا، اُس لڑکے سے محبت کی یا اس جگہ کی سیر کی اور پھر بھی یہ سب شروع کرنے کے بعد خود میں اور زیادہ خالی پن محسوس کیا؟ ہمیں ان مورچوں کو محسوس کرنے کیلئے کسی حادثے یا ناکامی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکثر اوقات ہماری زندگیوں میں خُدا کی عدم موجودگی کے نتیجہ میں اطمینان کی کمی واقع ہوتی ہے۔ بیکھی خُدا کے بارے میں جاننے کے متعلق بیان کرتی ہے ، ’’میری زندگی میں بہت سی مشکلات اور تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں لیکن میں ہر کام ایک نئی سوچ سے کرتی ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ محبت سے بھرا ازلی خُدا میری طرف ہے۔ میں ایمان رکھتی ہوں کہ کوئی ایسا کام نہیں جسے خُدا اور میں مل کر انجام نہیں دے سکتے۔ اور جس کاملیت کو میں نے شدت سے تلاش کیا تھا اسے آخر کار پا لیا۔
جب خُدا ہماری زندگی میں شامل ہوتا ہے تو ہم آرام کر سکتے ہیں۔ اور جیسے ہی ہم خُدا کو جاننا اور بائبل میں سے اُس کی آواز کو سننا شروع کر تے ہیں تو وہ اُس ذہنی سکون کو ہماری زندگیوں میں لاتا ہے کیونکہ ہم اُسے جان جاتے ہیں۔ ہم زندگی کو اُسکے برتر نظریہ سے دیکھتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ اُس کی وفاداری اور قدرت ہمیں سنبھال سکتی ہے۔ پس مستقبل کی پرواہ کیے بغیر ہم اپنے مستعد خُدا پر اُمید رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم اُس کو ڈھونڈیں اور رجوع لائیں تو وہ خود کو ہماری زندگیوں پر ظاہر کرنے کیلئے کھڑا ہے۔

حقیقی ذہنی سکون۔۔۔چٹان پر گھر

کیا آپ اپنی زندگی میں کچھ تعمیر کر رہے ہیں؟ آپ کو اس پر یقین ہو یا نہ ہو ہر شخص اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ تعمیر کر رہا ہے۔ ہماری سب کی ایک بنیاد ہے جس پر ہم ایمان اور توکل کرتے ہیں۔ ممکن ہے یہ ہماری خودی ہو یعنی ’’میں جانتا ہوں کہ اگر میں سخت محنت کروں تو میں اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتا ہوں۔‘‘ یا ایک طرز زندگی کے بارے میں ’’اگر میں بہت سی دولت اکٹھی کر لوں تو زندگی شاندار ہو جائے گی۔‘‘ یا وقت کے متعلق بھی ’’آنے والا کل چیزوں میں تبدیلی لائے گا۔‘‘
خُدا کا خیال فرق ہے۔ ہم سب کا اپنی ذات پر بھروسہ اور اُمید یا دوسرے لوگوں پر انحصار یا اس جہان کی پیش کردہ کوئی بھی چیز سب ہی جنبش کھانے والی ہیں اس لئے وہ کہتا ہے کہ ان چیزوں کی بجائے اُس پر بھروسہ رکھا جائے۔ وہ فرماتا ہے ’’پس جو کوئی میری یہ باتیں سنتا اور اُن پر عمل کرتا ہے وہ اُس عقلمند آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا۔ اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اورآندھیاں چلیں اور اُس گھر پر ٹکریں لگیں لیکن وہ نہ گرا کیونکہ اُس کی بنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی اور جو کوئی میری یہ باتیں سنتا ہے اور اُن پر عمل نہیں کرتا وہ اُس بے وقوف آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے اپنا گھر ریت پر بنایا۔ اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اُس گھر کو صدمہ پہنچایا اوروہ گر گیا اور بالکل برباد ہو گیا۔‘‘ جب مشکلات آتی ہیں تو عقلمندی اس میں ہے کہ خُدا اُس وقت ہماری زندگی میں شامل ہو۔ لیکن ہر قسم کے حالات کے باوجود خُدا چاہتا ہے کہ ہماری زندگی میں اور زیادہ فراوانی ہو۔ وہ ہماری زندگی کے ہر حصہ پر مثبت اثر چھوڑنا چاہتا ہے۔ خُدا اور اس کے کلام پر بھروسہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنا گھرچٹان پر بناتے ہیں۔

حتمی ذہنی سکون

کچھ لوگ کروڑ پتی باپ کی اولاد ہونے پر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ باآسانی اچھے نمبر حاصل کر لیں گے۔ خُدا کے ساتھ رشے میں اس سے بھی کہیں زیادہ حفاظت پائی جاتی ہے۔
خُدا زور آور ہے۔ خُدا ہماری مانند نہیں کیونکہ وہ مکمل طور پر جانتا ہے کہ آنے والے دن، ہفتے، سال اور دہائی میں کیا ہو گا ۔ وہ فرماتا ہے ، ’’میں خُدا ہوں اور مجھ سا کوئی نہیں۔ جو ابتدا ہی سے انجام کی خبر دیتا ہو‘‘۔ وہ جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا۔ خصوصاً وہ جانتا ہے کہ اگر آپ اُسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کیلئے چُن لیں گے تو کل آپ کی زندگی میں جو کچھ بھی ہو وہ آپ کے ساتھ ہو گا۔ وہ فرماتا ہے کہ وہ ’’ ہماری پناہ اور قوت اور مصیبت میں مستعد مددگار‘‘ ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمیں خلوص دل سے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ وہ فرماتا ہے، ’’اور تم مجھے ڈھونڈو گے اورپاؤ گے۔ جب پورے دل سے میرے طالب ہو گے‘‘۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خُدا کو جاننے والوں پر کبھی مصیبت نہ آئے گی۔ اُن پر مصیبت آئے گی اگر ہمارے ملک پر دہشت گردی کے حملے ہوتے ہیں، ماحولیاتی یا اقتصادی تباہی آتی ہے تو خُدا کو جاننے والے بھی اُن مشکلات کا شکار ہوں گے۔ اس کے باوجود خُدا کی حضوری ، اطمینان اور قوت بخشتی ہے۔ یسوع کے ایک شاگرد نے اسے یوں بیان کیا ، ’’ہم ہر طرف سے مصیبت تو اُٹھاتے ہیں لیکن لاچار نہیں ہوتے۔ حیران تو ہوتے ہیں لیکن نااُمید نہیں ہوتے۔ ستائے تو جاتے ہیں مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔ گرائے تو جاتے ہیں لیکن ہلاک نہیں ہوتے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ ہم مصائب کا سامنا کریں گے۔، تاہم اگر ہم خُدا کے ساتھ مل کر ان مصائب کا سامنا کرتے ہیں تو ان کے جواب میں ہماری سوچ فرق ہو گی اور ہماری قوت ہماری طرف سے نہ ہو گی۔ کسی مصیبت میں اتنا زور نہیں کہ خُدا کا سامنا کرسکے ۔ وہ ہمیں درپیش تمام مصائب سے بڑا ہے اور جب ہم اُن کا سامنا کرتے ہیں تو ہم اکیلے نہیں ہوتے۔
خُدا حفاظت کرتا ہے۔ خُدا اپنی عظیم قدرت اور گہری محبت ہماری زندگیوں میں ظاہر کر سکتا ہے۔ مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ ایسا امن ہو جو پہلے کبھی نہ دیکھا گیا یا حد سے زیادہ قوموں میں نفرت اور تشدد پایا جائے یا بہت زیادہ طلاقیں ہوں۔ ان دونوں صورتوں میں کوئی بھی ہمیں اتنی زیادہ محبت نہ کرے گا جتنی زیادہ خُدا کر سکتا ہے۔ کوئی بھی اتنی زیادہ فکر نہ کرے گا جتنی خُدا کر سکتا ہے۔ اُس کا کلام فرماتا ہے ، ’’خُداوند بھلا ہے اور مصیبت کے دن پناہ گاہ ہے۔ وہ اپنے توکل کرنے والوں کو جانتا ہے‘‘۔ ’’اپنی ساری فکر اُسی پرڈال دو کیونکہ اُس کو تمہاری فکر ہے۔‘‘ اور ’’خُداوند اپنی سب راہوں میں صادق اور اپنے سب کاموں میں رحیم ہے۔ خُداوند اُن سب کے قریب ہے جو اس سے دُعا کرتے ہیں۔ یعنی اُن سب کے جو سچائی سے دُعا کرتے ہیں۔ جو اُس سے ڈرتے ہیں وہ اُنکی مراد پوری کرے گا۔ وہ انکی فریاد سنے گا اور اُن کو بچا لے گا‘‘۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے یہ تسلی بخش الفاظ کہے، ’’کیا پیسے کی دو چڑیاں نہیں بکتیں؟ اور ان میں سے ایک بھی تمہارے باپ کی مرضی کے بغیر زمین پر نہیں گر سکتی۔ بلکہ تمہار ے سر کے بال بھی سب گِنے ہوئے ہیں۔ پس ڈرو مت ۔ تمہاری قدر تو بہت سی چڑیوں سے زیادہ ہے‘‘۔ اگر آپ خُدا کی طرف رجوع لائیں تو وہ آپ کی ایسے حفاظت کرے گا جیسے نہ تو کوئی کرتا ہے اور نہ ہی کر سکتا ہے۔

خُدا کی طرف سے ذہنی سکون

ہم کچھ نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔ اگر مستقبل میں کوئی مشکل گھڑی آتی ہے تو خُدا ہمارے لئے وہاں ہو سکتا ہے۔ اگر یہ آسانیاں پیدا کرتا ہے تو ہمیں پھر بھی خُدا کی ضرورت ہو گی تا کہ وہ ہمارے اندر موجود خلا کو بھرے اور ہماری زندگی پُرمعنی بنائے۔ جب سب کچھ کہا اور کیا جاتا ہے تو سب سے زیادہ اہمیت کس چیز کی ہوتی ہے؟ سب سے زیادہ اہمیت کی بات یہ ہے کہ ہمیں خُدا سے جُدا نہیں کیا جاتا۔ کیا ہم خُدا کو جانتے ہیں؟ کیا وہ ہمیں جانتا ہے؟ کیا ہم نے اسے اپنی زندگیوں سے باہر رکھا ہے؟ یا ہم نے اُسے اندر آنے دیا ہے؟ جب ہم اُسے جانتے ہیں تو وہ ہمیں منفرد سوچ اور اُمید دیتا ہے۔ ہم اس کے ساتھ ایک رشتے میں قائم رہ کر ہر حالت میں اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔
خُدا ہماری زندگیوں کا مرکز ہونا چاہئے؟ کیونکہ اُس کو جانے بغیر کوئی حقیقی اطمینان اور اُمید نہیں۔ ہم نہیں بلکہ وہ خُدا ہے۔ وہ ہم پر انحصار نہیں کرتا لیکن ہمیں اُس پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اس نے ہمیں پیدا کیا تا کہ ہم اپنی زندگی میں اُس کی موجودگی کی ضرورت کو محسوس کریں۔ ہم اپنی زندگی کو اُس کے بغیر چلانے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن اُس کے بغیر یہ ناکام ہو گی۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُسے ڈھونڈیں وہ پسند کرتا ہے کہ ہم اُسے جانیں اور اُسے اپنی زندگیوں میں شامل کریں ۔ لیکن ایک مشکل ہے: ہم نے اُسے اپنی زندگی سے باہر رکھا ہے۔ بائبل اسے یوں بیان کرتی ہے ، ’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھر ا پر خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی۔‘‘
ہم سب نے اپنی زندگیوں کو خُدا کے بغیر بسر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسے بائبل گناہ کہتی ہے۔ ہیتھر (پہلے حوالہ دیا گیا) گناہ کے بارے میں بیان کرتی ہے: ’’جب میں سٹین فورڈ میں داخل ہوئی تو میں مسیحی نہ تھی۔ اس وقت دُنیا میرے قدموں میں تھی اور انقلاب برپا ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔ میں نے سیاسی مجالس میں شرکت کی، نسل پرستی اور معاشرتی انصاف پر کلاسیں لیں اور خود کو کمیونٹی سروس سنٹر کیلئے وقف کر دیا۔ میرا ایمان تھا کہ میرے اندر دُنیا میں عظیم تبدیلی لانے کی قوت ہے۔ میں نے امتیازی حق سے محروم ایلیمنٹری سکول کے بچوں کو پڑھایا، بے گھر لوگوں کیلئے گھر کے موضوع پر ایک دن کا کیمپ چلایا، چھوڑے گئے کھانے کو اکٹھا کیا اور بھوکھوں کو کھلایا۔ میں نے جتنا زیادہ دُنیا کو تبدیل کرنے کی کوشش کی میں اتنا ہی پریشان ہوئی۔ میں نے افسر شاہی ، سردمہری اور گناہ کے مقابلہ میں آواز اُٹھائی لیکن پھر میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ انسانی فطرت کو بنیادی اصلاح کی ضرورت ہے۔‘‘

ذہنی سکون۔ خُدا کے ساتھ سکون

ٹیکنالوجی میں ترقی اور دور کی تبدیلی چیزوں کی بڑی منصوبہ بندی میں بہت اثر انداز نہیں ہوتی۔ کیوں؟ کیونکہ انسان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ خُدا سے دور ہو چکا ہے۔ ہمارے عظیم مسائل جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہیں۔ خُدا یہ سب جانتا ہے اس لئے اِس نے خود سے ہماری جُدائی کا ایک حل مہیا کیا۔ یسوع مسیح کے وسیلہ سے اس نے ہمیں اپنے پاس واپس بلانے کا ایک راستہ دکھایا ۔ بائبل بیان کرتی ہے، ’’خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تا کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‘‘ یسوع مسیح ہمارے گناہوں کی خاطر ہماری جگہ مصلوب (سزا دینے کا پرانا طریقہ) کیا گیا۔ وہ مر گیا، دفن ہوا اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ اُس کی قربانی کی موت کے باعث ہم خُدا کے ساتھ ایک رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔ ’’جتنوں نے اسے قبول کیا اس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘
یہ بالکل عام فہم ہے: خُدا ہمارے ساتھ ایک کامل رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ پس اس نے یہ رشتہ یسوع کے وسیلہ سے ممکن کیا۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم خُدا کو ڈھونڈیں اور اسے اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دیں۔ بہت سے لوگ دُعا کے ذریعہ سے ایسا کرتے ہیں۔ دُعا کا مطلب ہے سچائی سے خُدا کے ساتھ بات کرنا۔ اس وقت آپ خلوص دل سے یہ الفاظ بول کر خُدا کے پاس آ سکتے ہیں: ’’خُدا میں تجھے جاننا چاہتا ہوں۔ اگرچہ میں نے دیر تک تجھے اپنی زندگی میں آنے کی دعوت نہ دی لیکن اب میں تبدیلی لانا چاہتا ہوں۔ تو نے ہماری جُدائی کا جوحل پیش کیا ہے میں اُس سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہوں۔ میں یسوع کی موت پر ایمان لاتا ہوں تا کہ میں معافی پاؤں اور راستباز بن جاؤں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو اب سے میری زندگی میں شامل ہو جائے۔‘‘
کیا آپ نے سنجیدگی سے یسوع کو اپنی زندگی میں دعوت دی ہے؟ اس کے متعلق آپ یقینی طور پر جانتے ہیں یا خُدا۔ ابھی آپ نے بہت آگے تک کام کرنا ہے۔ آپ کے اس کے ساتھ رشتے کی وجہ سے وہ آپ کی زندگی میں بہت زیادہ تسلی پیدا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ وہ آپ کے دل کے اندر اپنا گھر بنانے کا وعدہ کرتا ہے اور وہ آپ کو ابدی زندگی دیتا ہے۔
میلیسا نیو انگلینڈ کی طالبہ نے خُدا کے بارے میں یہ بتایا: ’’میری ماں نے جب میرے باپ کو طلاق دی تو میں بہت چھوٹی تھی میں نہیں جانتی تھی کہ کیا ہو رہا تھا۔ میں صرف یہ جانتی تھی کہ میرا باپ اس کے بعد گھر نہ آیا۔ ایک دن میں اپنی دادی کے پاس گئی اور میں نے اُسے بتایا کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میرا باپ مجھے تکلیف دے کر کیوں چھوڑ گیا۔ اس نے مجھے گلے لگا کر کہا کہ ایک ایسا شخص ہے جو مجھے کبھی نہ چھوڑے گا۔ اس نے عبرانیوں تیرہ باب کی پانچویں آیت اور زبور اڑسٹھ کی پانچویں آیت کا حوالہ دیا جس میں یہ لکھا ہے، ’’میں تجھ سے ہرگز دستبردار نہ ہونگا اور کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا۔‘‘ اور وہ ’’یتیموں کا باپ اور بیواؤں کا داد رس ہے۔‘‘ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ خُدا میرا باپ بننا چاہتاتھا۔ آپ کے گرد دُنیا میں چاہے کچھ بھی ہو یہ جان کر ذ ہنی سکون ملتا ہے کہ خُدا آپ کے لئے موجود ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں چاہے کچھ بھی ہو آپ کا خُدا مستعد مددگار ہے۔

میں نے ابھی یسوع کو اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دی ہے (کچھ مددگار معلومات آگے ہے)۔۔۔

میں یسوع کو اپنی زندگی میں دعوت دینا چاہوں گا۔ مہربانی سے اس کی مزید اور مکمل وضاحت کریں۔۔۔

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔