یسوع ہمیں کیا دیتا ہے؟

سوال: یسوع پر کیوں یقین کریں؟ یسوع ہمیں کیا دیتا ہے؟

ہمارا جواب: ذیل میں اُس کے چند ایک بیانات ان کے حوالہ جات کے ساتھ دیئے گئے ہیں جب وہ زمین پر تھا۔
تاریکی سے نکلنے کا رستہ:
’’میں نور ہو کر دُنیا میں آیا ہوں تا کہ جوکوئی مجھ پر ایمان لائے اندھیرے میں نہ رہے‘‘۔ (یوحنا44:12-46)
اطمینان، ہمارے اندر کی پیاس کا خاتمہ: یسوع نے ان سے کہا، ’’یسوع نے ان سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ موسیٰ نے تو وہ روٹی آسمان سے تمہیں نہ دی لیکن میرا باپ آسمان سے تمہیں حقیقی روٹی دیتا ہے۔ کیونکہ خُدا کی روٹی وہ ہے جو آسمان سے اُتر کر لوگوں کو زندگی بخشتی ہے۔ انہوں نے اُس سے کہا، ’’اے خُداوند! یہ روٹی ہم کو ہمیشہ دیا کر۔، یسوع نے اُن سے کہا ، ’زندگی کی روٹی میں ہوں۔ جو میرے پاس آئے وہ ہرگز بھوکا نہ ہو گا اور جو مجھ پر ایمان لائے وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا‘‘۔ (یوحنا 32:6-35 )
زندگی کی راہ:
یسوع نے پھر اُن سے کہا، ’’دُنیا کا نور میں ہوں ۔ جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا‘‘۔(یوحنا 12:8)
ہمارے گناہ کی قیمت:
’ابن آدم اس لئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اس لئے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بتہیروں کے بدلے فدیہ میں دے‘‘۔ (متی25:20-28) وہ اپنے شاگردوں کو تعلیم دے رہا تھا اور اُس نے کہا ، ’’ابن آدم آدمیوں کے حوالہ کیا جائے گا اور وہ اُسے قتل کریں گے اور وہ قتل ہونے کے تین دن بعد جی اُٹھے گا‘‘۔ لیکن وہ اِس بات کو سمجھتے نہ تھے اور اس سے پوچھتے ہوئے ڈرتے تھے (مرقس 31:9-32 )
کثرت کی زندگی :
یسوع نے پھر ان سے کہا ، ’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بھیڑوں کا دروازہ میں ہوں۔ جتنے مجھ سے پہلے آئے سب چور اور ڈاکو ہیں مگر بھیڑوں نے اُنکی نہ سُنی ۔ دروازہ میں ہوں اگر کوئی مجھ سے داخل ہو تو نجات پائے گا اور اندر باہر آیا جایا کرے گا اور چارہ پائے گا۔ چور نہیں آتا مگر چرانے اورمار ڈالنے اور ہلاک کرنے کو۔ میں اس لئے آیا کہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔ اچھا چرواہا میں ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کیلئے اپنی جان دیتا ہے‘‘۔ (یوحنا10: 7-11)
گناہوں کی معافی:
اور لوگ ایک مفلوج کو چار آدمیوں سے اُٹھوا کر اس کے پاس لائے۔ مگر جب وہ بھیڑ کے سبب سے اُسکے نزدیک نہ آ سکے تو انہوں نے اس چھت کو جہاں وہ تھا کھول دیا اور اُسے اُدھیڑ کر اس چارپائی کو جس پر مفلوج لیٹا تھا لٹکا دیا۔ یسوع نے اُن کا ایمان دیکھ کر مفلوج سے کہا بیٹا تیرے گناہ معاف ہوئے۔ مگر وہاں بعض فقیہ جو بیٹھے تھے۔ وہ اپنے دلوں میں سوچنے لگے کہ ۔ یہ کیوں ایسا کہتا ہے؟ کُفر بکتا ہے خُدا کے سوا کون گناہ معاف کر سکتا ہے؟ اور فی الفور یسوع نے اپنی روُح سے معلوم کرکے کہ وہ اپنے دلوں میں یوں سوچتے ہیں اُن سے کہا تم کیوں اپنے دلوں میں یہ باتیں سوچتے ہو؟ آسان کیا ہے؟ مفلوج سے یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے یا یہ کہنا کہ اُٹھ اور اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پھر ؟ لیکن اس لئے کہ تم جانو کہ اِبن آدم کو زمین پر گناہ معاف کرنے کا اختیار ہے (اُس نے اُس مفلوج سے کہا)۔ میں تجھ سے کہتا ہوں اُٹھ اپنی چارپائی اُٹھا کر اپنے گھر چلا جا۔ اور وہ اُٹھا اور فی الفور چارپائی اُٹھا کر اُن سب کے سامنے باہر چلا گیا۔ چنانچہ وہ سب حیران ہو گئے اور خُدا کی تمجید کرکے کہنے لگے ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا‘‘۔ (مرقس 3:2- 12)
ابدی زندگی:
’’جو کچھ باپ مجھے دیتا ہے میرے پاس آ جائے گا اور جو کوئی میرے پاس آئے گا اُسے میں ہرگز نکال نہ دوں گا۔ کیونکہ میں آسمان سے اس لئے نہیں اُترا ہوں کہ اپنی مرضی کے موافق عمل کروں بلکہ اس لئے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں۔ اور میرے بھیجنے والے کی مرضی یہ ہے کہ جو کچھ اس نے مجھے دیا ہے میں اُس میں سے کچھ کھو نہ دوں بلکہ اسے آخری دن پھر زندہ کروں کیونکہ میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو دیکھے اور اُس پر ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے اور میں اسے آخری دن پھر زندہ کروں‘‘۔ (یوحنا37:6-40)

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔