جنسی تعلق اور ہم آہنگی کی تلاش

آپ کا اپنے دل کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا سچی محبت او رگہرے رشتے کا کوئی راز ہے ؟ اس کی تلاش کیجئے۔

از:ڈِک پرنیل

کالجیٹ چیلنج رسالے میں ڈاکٹر ہنری برنیڈٹ نے تحریر کیا کہ اس کے پاس شادی شدہ جوڑے مخصوص علامات کے ساتھ آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ،’’شروع جنسی تعلق خوشگوار تھا ۔ پھر میں نے اپنے اور اپنے ساتھی کے متعلق مضحکہ خیز محسوس کرنا شروع کر دیا ۔ اس کے بعد ہم نے بحث کی ،جھگڑا کیا اور آخر کار ہم میں طلاق ہوگئی ۔ اب ہم ایک دوسرے کے حریف ہیں۔‘‘اس علامت کو میں نے بعد از صبح علامت کانام دیا ۔ ہم نیند سے جاگتے ہیں اور ہمارا گہرا رشتہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد جنسی تعلق ہمیں تسلی نہیں بخشتا اور ہم اس طرح سے خاتمہ کرتے ہیں جسے ہم شروع میں نہیں چاہتے تھے ۔ آخر میں دو خود غرض لوگ شخصی تسلی کی تلاش کر رہے ہوتے ہیں ۔ حقیقی محبت اور گہرے رشتے کے عناصر کو فوراً حاصل نہیں کیا جا سکتا اور آپ ہم آہنگی کو تلاش کرتے کرتے توازن کھو دیتے ہیں ۔

گہرے رشتے کا مطلب ہے جسم سے ایک قدم آگے۔

ہم میں سے ہر ایک کی زندگی کے پانچ مخصوص اجزاء ہوتے ہیں ۔یہ اجزا جسمانی ، روحانی ، جذباتی ، ذہنی اور معاشرتی ہیں ۔ ان اجزا کو اس طور سے مرتب کیا گیا ہے کہ یہ مل کر کام کریں ۔ ہم اپنے گہرے رشتے کی تلاش کا حل کل چاہتے تھے یا آج چاہتے ہیں۔ہمارا ایک مسئلہ ہے کہ ہم فوری طور پر تسلی چاہتے ہیں ۔جب گہرے رشتے کی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو پھر ہم فوری حل تلاش کرتے ہیں ہم کسی جزو پر غور کرتے ہیں؟جسمانی ، ذہنی ، سماجی ، جذباتی یا روحانی ؟ یہ جسمانی ہے ۔دیگر چار اجزا کی بجائے جسمانی طور پر کسی کے ساتھ گہری محبت قائم کرنا آسان ہوتا ہے ۔ آپ ایک یا دو گھنٹوں میں کسی مخالف جنس کے ساتھ جسمانی طور پر گہری محبت قائم کر سکتے ہیں ۔ اس کا انحصار آپکی خواہش پر ہوتا ہے ۔ لیکن آپ جلد ہی دریافت کرلیں گے کہ جنسی تعلق شاید سطحی خواہش کی عارضی تسکین ہے ۔ گہرے رشتے کی ضرورت اس سے کہیں بڑھ کر ہوتی جو ابھی تک پوری نہیں ہوتی ۔
جب آپ کے اندر جوش ختم ہو جاتا ہے اور جنسی تعلق کو بڑھانے پر آپ کی ناپسندیدگی بڑھ جاتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ ہم یہ کہہ کر اس کا جواز پیش کرتے ہیں ،’’ہمیں محبت ہے ۔ نہیں ۔ میرا مطلب ہے واقعی محبت ہے ۔‘‘ لیکن ابھی تک ہم قصور واراور غیر مطمئن ہوتے ہیں ۔پورے امریکہ میں میَں مردوں اور عورتوں کو گہرا رشتہ تلاش کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ وہ ایک دوسرے سے رشتے کی جانب اس امید پر بڑھتے ہیں کہ شاید وہ انکا آخری رشتہ ہو ۔ ’’ اس دفعہ میں قائم رہنے والا رشتہ ڈھونڈ لوں گا ۔‘‘میرا ایمان ہے کہ ہماری حقیقی خواہش جنسی تعلق نہیں ۔ ہماری حقیقی خواہش گہرا رشتہ ہے۔
دورِ جدید میں گہرے رشتے کے الفاظ کو جنسی تعلق کے مفہوم میں لیا جاتا ہے لیکن یہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس میں ہماری زندگی کا ہر پہلو شامل ہوتا ہے ۔ ہاں ، جسمانی پہلو تو ہے لیکن روحانی ، سماجی ، جذباتی اور ذہنی پہلو بھی ہے ۔گہرے رشتے کا مطلب ہے زندگی کو مکمل طورپربانٹنا ۔ کیا ہم سب کے اندر کبھی کسی دوسرے شخص کے ساتھ مکمل طور پر اپنی زندگی بانٹنے ، قربت پیدا کرنے یا یکسوائی کیلئے کوئی خواہش نہ تھی ؟

اس محبت کے متعلق کیا خیال ہے جو ہمیں خوفزدہ کرتی ہے ؟

مارش ہوج نے ’’آپ کا محبت کا خوف ‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب تحریر کی ۔ اس میں وہ یہ کہتا ہے ’’ ہم محبت ، قربت اور نزاکت کے اظہار کے لمحات کا انتظار کرتے ہیں لیکن اکثر نازک لمحات کے آنے پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ ہم قربت سے خوفزدہ ہیں ۔ہم محبت سے خوفزدہ ہیں ۔‘‘اس کتاب کے آخر میں ہوج بیان کرتا ہے ’’ ہم جتنا زیادہ کسی کے قریب جاتے ہیں درد کے امکانات اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں ۔‘‘یہ درد کاخوف ہی ہمیں سچے گہرے رشتے کی تلاش کرنے سے پیچھے رکھتا ہے۔
جنوبی ایلی نائے یونیورسٹی میں میرے خطبات کا ایک سلسلہ جاری تھا ۔ کسی ایک جلسہ کے اختتام پر ایک عورت نے میرے پاس آکر کہا،’’میں اپنے محبوب کے مسائل کے متعلق آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ ہم دونوں بیٹھ گئے اور اس نے اپنے مسائل کوبتانا شروع کردیا۔ چند لمحات کے بعد اس نے یہ بیان دیا :’’اب میں یہ فیصلہ کررہی ہوں کہ کبھی تکلیف برداشت نہ کروں گی ۔‘‘ میں نے اس سے کہا ’’با الفاظ دیگر تم یہ فیصلہ کر رہی ہو کہ کبھی محبت نہ کرو گی ۔‘‘اس نے سمجھا شاید مجھے غلط فہمی ہوئی ہے ۔ پس اس نے اپنی بات کو جاری رکھا ۔
’’نہیں ، میَں یہ تمہیں کہہ رہی ۔ بس میں اب تکلیف برداشت کرنا نہیں چاہتی ۔میَں اپنی زندگی میں تکلیف نہیں چاہتی۔‘‘ میں نے کہا ’’ بالکل ٹھیک ، تم اپنی زندگی میں محبت نہیں کرنا چاہتی ۔‘‘آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تکلیف کے بغیر محبت کی کوئی حقیقت نہیں ۔ ہم جتنا زیادہ کسی کے قریب آئیں گے درد کا امکان اتنا ہی بڑھ جائے گا ۔
میَں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ آپ (بلکہ 100فیصد کے قریب آبادی بھی)یہ کہیں گے کہ آپ پہلے کسی رشتے میں تکلیف اٹھا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے اس تکلیف کو کیسے دور کیا ؟ ہم میں سے بہت سے دوسرے لوگوں کو ’’ دونشانات‘‘ دیتے ہیں ۔ ہم ایک شخص سے کہتے ہیں ’’ دیکھیں ، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے قریب آئیں ۔ میں محبت لینا اور دینا چاہتا ہوں ۔ لیکن لمحہ بھر انتظار کیجئے ، میں پہلے بھی تکلیف پاچکا ہوں۔ نہیں ، میں ان چیزوں کے بارے میں بات نہیں کرناچاہتا ۔ میں ان باتوں کو سننا نہیں چاہتا ۔‘‘ہم اپنے دلوں کے چوگرد دیوار کھڑی کر لیتے ہیں تاکہ کوئی اندر آکر ہمیں تکلیف نہ دے سکے ۔ لیکن وہی دیوار جو لوگوں کودور رکھتی ہے ہمیں اندر قید بھی رکھتی ہے ۔ اس کا نتیجہ ؟ ہمارے اندر تنہائی گھر کرلیتی ہے اور ہمارے لئے گہرے رشتے اور سچی محبت کو قائم رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے ۔

اگر آپ نے اس طرح کی محبت کا سامناکیا ہوتا تو کیا ہوتا؟

محبت جذبات سے بڑھ کر ہے ، اور ایک بہتر احساس سے کہیں بڑھ کرہے لیکن خدانے محبت ، جنسی تعلق اور گہرے رشتے کے متعلق جو کچھ بھی کہا ہمارے معاشرے نے اسے صرف جذبات اور احساسات میں تبدیل کر دیا ہے ۔ خدا محبت کو بائبل میں بالخصوص -1کرنتھیوں13باب میں بڑی تفصیل سے بیان کرتاہے ۔ میں آیت چار تا سات کو آپ کے سامنے اس طور سے پیش کرتاہوں کہ آپ محبت کے متعلق اس کی تعریف کو بہتر طور پر جان سکیں ۔ اگر کوئی شخص آپ سے محبت کرتا تو آپ کی کتنی ضروریات پوری ہوئیں جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ ہم سے محبت ہونی چاہئے :
    * اگر یہ شخص مہربانی اور صبر کے ساتھ آپ کی طرف بڑھتا اور آپ سے حسدنہ کرتا ؟
    * اگر یہ شخص شیخی باز اور مغرور نہ ہوتا؟
    * اگر یہ شخص آپ کے ساتھ گستاخی ، خود غرضی اور غصہ سے پیش نہ آتا تو کیا ہوتا؟
    * اگر یہ شخص آپ کی غلطیوں کا شمارنہ کرتا؟
    * اگر وہ ہمیشہ دھوکہ دہی سے انکار کرتا اور سچ بولتا تو کیا ہوتا؟
    * اگر یہ شخص آپ کی حفاظت کرتا، آپ پربھروسہ رکھتا ، ہمیشہ آپ کے لئے بہتری کی امید کرتا اور تنازعات میں بھی آپ کے ساتھ ساتھ رہتا ۔
خدا اس طرح سے محبت کو بیان کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم اسے اپنے رشتوں میں اپنائیں ۔ آپ غور کریں گے کہ اس نوعیت کی محبت میں ساری توجہ ’’دوسرے شخص‘‘ پر ہے ۔اس کا مطلب لینا نہیں بلکہ دینا ہے ۔ اور پھر ایک مسئلہ ہے ۔ اس کے مطابق کون رہ سکتا ہے ؟
اس طرح سے محبت کرنے کے لیے ہمیں محسوس کرنا ہے کہ ہم سے محبت کی جاتی ہے ۔
اس طرح کی محبت کا اپنے رشتوں میں تجریہ کرنے کے لیے ہمیں اپنے لئے خداکی محبت کا تجربہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ کسی کیلئے مسلسل اس طرح کی محبت کااظہارنہیں کر سکتے اگر آپ نے ایسے خودسے محبت کیے جانے Our Visionکا تجربہ حاصل نہیں کیا۔ خدا جو آپ کو جانتاہے بلکہ آپ کے متعلق ہربات کو بھی وہ آپ سے کامل محبت کرتا ہے ۔ خدا قدیم نبی یرمیاہ کی وساطت سے یہ فرماتاہے ’’ خداوند قدیم سے مجھ پر ظاہر ہوااور کہا کہ میں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی اسی لئے میں نے اپنی شفقت تجھ پربڑھائی ۔‘‘(یرمیاہ 3:31)۔پس آپ کیلئے کبھی تبدیل ہوگی ۔
خدا نے ہم سے اتنی زیادہ محبت رکھی کہ یسوع مسیح کو ہماری خاطر مصلوب (سزا دینے کاقدیم طریقہ) ہونے دیا تاکہ ہم پاک ہو جائیں ۔ ہم بائبل میں پڑھتے ہیں کہ’’ کیونکہ خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی اس نے اپنااکلوٹا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پرایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‘‘(یوحنا 16:3)
جب ہم خدا کی طرف رجوع لاتے اوراس کی معافی کو قبول کرتے ہیں پھرہم اس کی محبت کا تجربہ کرنا شروع کرتے ہیں ۔ خدا ہم سے کہتا ہے ، ’’ اگر اپنے گناہوں کااقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے ۔‘‘(-1یوحنا 9:1)نا صرف خدا ہمارے گناہوں کو معاف کرتا بلکہ بھول کر ہمیں پاک کرتاہے ۔

اس طور سے محبت ہونا کیسا لگتا ہے ؟

چاہے کچھ بھی ہوجائے خدا ہم سے مسلسل محبت کرتاہے ۔اکثر رشتوں میں جب کوئی تبدیلی واضح ہوتی ہے تو وہ ناپید ہو جاتے ہیں جیسا کہ کوئی نقصان دہ حادثہ یا اقتصادی حالت نقصان ہو جاتا ہے ۔لیکن خدا کی محبت کا دارو مدار ہمارے جسمانی خدو خال یا ہماری شخصیت پر نہیں ہوتا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جو محبت کی تعریف ہمیں معاشرہ دیتا ہے خدا کا اندازِ فکر اس سے مکمل فرق ہے ۔ کیا آپ اس قسم کی محبت کے ساتھ رشتے کا تصور کر سکتے ہیں؟ خدامحض یہ بتاتاہے کہ اسکی معافی اور محبت مانگنے کی دوری پر ہے ۔ یہ اس کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت ہے۔ اگر ہم اس نعمت سے انکار کرتے ہیں تو ہم حقیقی فراوانی ،گہرا رشتہ اور مقصدِ حیات پانے کی دوڑ سے خود کو خارج کر لیتے ہیں ۔ خدا کی محبت ہمیں جوابات مہیاکرتی ہے۔ ہم نے صرف ایمان اور پختہ عزم کے ساتھ اسے پکارنا ہے ۔بائبل یسوع کے بارے میں بیان کرتی ہے ’’لیکن جتنوں نے اسے قبول کیا اس نے انہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشایعنی انہیں جو اس کے نام پرایمان لاتے ہیں۔‘‘(یوحنا 12:1)خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بھیجا تاکہ وہ ہماری جگہ پر مرے ۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ تین دن کے بعد یسوع مردوں میں سے جی اٹھا ۔ پس خدا آج بھی زندہ ہے اور وہ ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے بھرنا چاہتا ہے ۔اگر ایک دفعہ آپ اسے قبول کرلیں توآپ حیران ہونگے کہ وہ آپ کی زندگی اور رشتوں کیسے کیسے کام کر سکتا ہے ۔
خدا کا کلام فرماتا ہے ’’ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اس کی ہے ۔ لیکن جو بیٹے کی نہیں مانتا زندگی کو نہ دیکھے گا بلکہ اس پر خدا کا غضب رہتا ہے ۔‘‘(یوحنا36:3) ۔ خداچاہتا ہے کہ ہم زندگی پائیں نہ صرف آج بلکہ ابد تک ۔اگر ہم نے اس کو رد کرنے کو چن لیاتو پھر ہم گناہ کی مزدوری پائیں گے جو کہ موت اور اس سے ابدی جدائی ہے ۔
خدا کی محبت کو جاننے کا کیا فاہدہ ہے ؟ اگر ہم یسوع مسیح کو اپنی زندگیوں میں اتارتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر ہماری زندگیوں میں توازن پیدا ہوگا۔خدا پرایمان اس کی معافی کو جاری کر دیتاہے ۔اس کے بعد پھر ہم سے چھپتے یا دُور نہیں بھاگتے ۔ وہ ہمارے ساتھ ہے ۔ہمیں اس کا اطمینان حاصل ہے ۔جب ہم اس پر ایمان رکھتے اور انحصارکرتے ہیں تو پھر وہ ہماری زندگیوں میں رہتا ہے جس سے ہمارااس کے ساتھ ایک گہرا رشتہ قائم ہو جاتا ے ۔ہمیں جس بھی بدترین گناہ ، خودغرضی ، مسئلے یا جدوجہد کا سامنا تھا یا کبھی ہوگا اس کی معافی ہمیشہ پاک کرنے کے لئے موجود ہے ۔
پوری بائبل میں جنسی تعلق کے متعلق خدا کارویہ بہت واضح ہے ۔ خدانے جنسی تعلق کو صرف اور صرف شادی کیلئے رکھاہے ۔اسلئے نہیں کہ وہ ہماری حالت کو بگاڑنا چاہتا ہے بلکہ وہ تو ہمارے دلوں کی حفاظت کرنا چاہتا ہے ۔ و ہ تو ہمارے لئے حفاظت کی بنیاد قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ جب ہم شادی میں داخل ہوں تو اس کے گہر ے رشتے کی بنیاد خداکی محبت ودانش کی حفاظت پر رکھ سکیں ۔
جب ہم خود کو یسوع مسیح کے حوالہ کردیتے ہیں تو وہ روز بروز ہمیں نئی محبت اور قوت دیتا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہم گہرے رشتے میں ڈھونڈنے والی تسلی کو پا لیتے ہے۔ خداہمیں ایسی محبت دیتاہے جو کبھی چھوڑے گی اور نہ ہی وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوگی ۔ اس کی محبت دو لوگوں کو قریب لا سکتی اور وہ اس یگانگت کامرکز ہو سکتا ہے ۔
جنسی محبت کی وابستگی میں جب آپ نہ صرف روحانی بلکہ سماجی ، ذہنی اورجذباتی طورپرمل کر قدم بڑھاتے ہیں تو پھر آپ ایک سچا ،ایک دوسرے کی فکر کرنے والا اور گہرا رشتہ پالیتے ہیں جوکہ بھرپور اورپُر جوش ہوتا ہے ۔ اور جب یہ رشتہ آگے بڑھتا ہوا نقطہ عروج پر پہنچ کر شادی کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو پھر آپکا جنسی تعلق کا ملاپ اسی بنیاد پر تعمیری کام کرتا ہے جو پیشتر قائم کی گئی تھی ۔

خداکی محبت کو جاننے کے لئے کیاکرنا پڑتاہے ؟

پ ایمان کے ساتھ دُعا میں یسوع مسیح کو ابھی قبول کر سکتے ہیں ۔ دُعا کا مطلب خدا سے باتیں کرناہے۔ خدا آپ کے دل کو جانتا اسلئے وہ آپ کے الفاظ کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ آپ کے دل کے رویے کوجانچتا ہے ۔ذیل میں ایک دُعا تجویز کی جاتی ہے۔ ’’ خداوند یسوع ! مجھے تیری ضرورت ہے ۔صلیب پرمیرے گناہوں کے لئے مرنے کا شکریہ ! میں اپنی زندگی کا کھولتا ہوں اورمجھے اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول کرتاہوں ۔میرے گناہوں کو معاف کرنے اور ابدی زندگی دینے کا شکریہ! میرے زندگی کو اپنے اختیار میں لے لے اور مجھے وہ شخص بنا دے جو تو بناناچاہتا ہے ۔‘‘ کیا یہ دُعا آپ کے دل کی عکاسی کرتی ہے ؟ اگرایسا ہے توپھر ابھی یہ دُعا کیجئے ۔ جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے اگر آپ اس پرایمان لائیں تووہ آپ کی زندگی میں آئیگا۔ یوں ایک ایسا رشتہ قائم ہوجائیگا جو اس کو جاننے کے بعد مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔اور جب وہ آپ کی زندگی کامرکز بن جائے گا تو یہ ایک نئی روحانی سمت اختیار کر لے گی جس کے نتیجہ میں آپ کے رشتوں میں کاملیت اورہم آہنگی پیداہوگی ۔
محبت کیا ہے؟ جب آپ خدا کی محبت کو جانتے اور اسکاتجربہ کرتے ہیں پھر آپ دوسروں کومحبت کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔

میں نے ابھی یسوع کو اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دی ہے (کچھ مددگار معلومات آگے ہے)۔۔۔

میں یسوع کو اپنی زندگی میں دعوت دینا چاہوں گا۔ مہربانی سے اس کی مزید اور مکمل وضاحت کریں۔۔۔

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔