ہم یہاں سے کہا ں جاتے ہیں؟

اُن لوگوں کے لئے جو کسی بڑے صدمے سے بحال ہو رہے ہیں۔۔۔

کیا آپ کسی دوست یا عزیز کے ناگہانی وصال یا کسی قدرتی آفت کے انجام کو جھیل رہے ہیں؟ کیا آپ خُدا کی طرف سے اِن واقعات کا جواب حاصل کر سکیں گے؟ شاید نہیں۔ اور اگر کوئی شخص اِس کا جواب دینا چاہے تو آپ کو اس کے بیان پر شک ہونا چاہئے۔ آخر اس مخصوص وقت میں اس طرح کے حالات کیوں؟ ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ خُدا اِس کا جواب دے گا۔ شاید اگر وہ اس کو بیان کرنے کی کوشش کرتا تو ہم سمجھ نہ پاتے۔
تاہم خُدا جس سوال کا جواب دے گا وہ یہ ہے: خُدا کے بارے میں سچائی کیا ہے؟ ہم کس پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟ کیا اُس کے پاس جانا ہمارے لئے کوئی بہتری پیدا کرے گا۔
جس تجربے سے آپ حال ہی میں گزرے ہیں۔ شاید اِس سے بڑی چیز آپ کے لئے کوئی بھی نہ ہو۔ لیکن خُدا سب سے بڑا ہے۔ خُدا ان طاقتوں سے زیادہ قدرت رکھتا ہے۔ ان سب واقعات میں وہ ہمیشہ موجود ہے اور رہے گا۔ خُدا ہمیں کیا پیش کرتا ہے؟ طاقت، اُمید، خوشحالی اور تسلی۔ وہ آپ کو اگلے گھنٹے، دن اور اگلے وقت کا سامنا کرنے کی لیاقت بخش سکتا ہے۔
یسوع کے ایک شاگرد۔۔۔پولس نے جب اپنی زندگی میں مصیبت کا سامنا کیا تو اس نے یہ لکھا:
’’ہم ہر طرف سے مصیبت تو اُٹھاتے ہیں لیکن لاچار نہیں ہوتے۔ حیران تو ہوتے ہیں مگر نا اُمید نہیں ہوتے۔ ستائے توجاتے ہیں مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔ گرائے تو جاتے ہیں لیکن ہلاک نہیں ہوتے‘‘۔۔۔اِس لئے کہ خُدا ہی ہے جس نے فرمایا کہ تاریکی میں سے نور چمکے اور وہی ہمارے دلوں میں چمکا۔۔۔‘‘
خُدا یہ سب کیسے کرتا ہے؟ وہ یہ سب ایسے ہی کرتا ہے جیسے کوئی دوست آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آپ کی تسلی اور ہمت کیلئے چند الفاظ بول دے۔ اگر ہم اُس کے پاس جائیں تو وہ ہم سے بات کر سکتا ہے۔ اگر ہم اُس کا کلام یعنی بائبل کھولیں تو وہ ہم سے ذاتی طور پر ہمکلام ہوتا ہے۔
لیکن شاید آپ خُدا کے پاس جا کر مکمل طور پر تسلی محسوس نہ کریں۔ ممکن ہے کہ آپ جملہ جذبات سے جنگ لڑ رہے ہوں اور ابھی تک آپ یہ فیصلہ کر رہے ہوں کہ غصے یا ناکامی کا کون سا حصہ خُدا کے پاس لے جایا جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنی بے خبری کے عالم میں یقین نہ ہو کہ خُدا نے آپ کو بغور دیکھا ہے اور وہ آپ کو جانتا بھی ہے۔
آپ کے جذبات چاہے کچھ بھی ہوں لیکن حقیقت لاتبدیل ہے۔ خُدا موجود ہے۔ حالات چاہے آپ کو حواس باختہ کر دیں لیکن خُدا آپ کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ نہ صرف آپ کی شخصیت سے بلکہ آپ کی ضروریات اور تکالیف سے بھی واقف ہے۔ یسوع نے کہا، ’’اے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تمکو آرام دوں گا۔ میرا جوااپنے اوپر اُٹھالو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ میں حلیم ہوں اور دِل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔ وہ ہمیں آرام کیسے دے سکتا ہے؟ یعنی وہ ہمارا بوجھ اُٹھا سکتا ہے۔ وہ آپ کی مشکلات کو حل کر سکتا ہے کیونکہ اس کی قوت لامحدود ہے۔ وہ آپ کی سب راہوں کا تعین کر سکتا ہے کیونکہ وہ آنے والے کل کو جانتا ہے۔
یسوع نے فرمایا ’’مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔ کیونکہ میرا جوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔‘‘ خُدا نرمی سے فرماتا ہے کہ اس پر یقین کرو۔ وہ آپ کی طرف بانہیں پھیلاتا ہے تا کہ آپ کو سنبھال لے اور آپ کی اُمید کو بحال کر دے۔ ’’خُداوند شکستہ دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔‘‘
ہمیں اُس کی خدمت میں کوئی چیز لانے کی ضرورت نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ خالی ہاتھ آؤ۔ تاہم میرا خیال ہے کہ آپ بالکل یہی محسوس کر رہے ہونگے۔ اس سے وعدے کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے کچھ دینے کی ضرورت نہیں۔ اِس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ خُدا خود آپ کو نئے سرے سے زندگی تعمیر کرنے کی راہ دِکھاتا ہے جو اُس کے ساتھ رشتہ استوار کرنے سے ہے۔
ممکن ہے آپ سوچتے ہوں آپ نے زندگی اُس طور سے نہیں گزاری جو خُدا کی مرضی کے مطابق ہو۔ ہم میں سے کسی شخص نے بھی خُدا کے معیار کے مطابق پاک زندگی بسر نہیں کی۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ہم سب نے گناہ کیا ہے اور اس کے جلال اور راستبازی سے محروم ہیں۔ ہم خُد کی نظر میں مقبول نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ہمیں اسکی ضرورت ہے۔ یسوع صلیب پر دُکھوں کو جھیل کر ہمیں اُس کی نظروں میں قابل قبول کرتا ہے۔ آپ اپنی مشکلات میں تنہا نہیں۔
بائبل میں مندرج ہے کہ یسوع ’’مردِ غمناک اور رنج کا آشنا تھا۔‘‘ وہ مصائب سے واقف تھا۔ اور موت کے درد کو بھی جانتا تھا۔ جب یسوع کا دوست لعزر اس سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوا تو وہ ساکن ہو گیا اور اُس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ جب یسوع نے بھیڑ کو دیکھا تو لکھا ہے کہ اسے بھیڑ پر ترس آیا کیونکہ وہ اُن بھیڑوں کی مانند بے یارومددگار تھے جن کا کوئی چرواہا نہ ہو۔
یسوع نے نہ صرف دُکھوں کو محسوس کیا بلکہ اِن کو ذاتی طور پر برداشت بھی کیا۔ اس نے معجزات دکھائے مثلاً مردوں کو جلایا، بیماروں کو شفا دی، لنگڑوں کوچلایا اور اندھوں کو بینائی بخشی۔ اُس نے اپنے دشمنوں کو اجازت دی کہ اُس کے سر میں کانٹے چبھوئیں، اُسے ماریں، کوڑے لگائیں اور اسے صلیب پر کیلوں سے جڑ دیں جہاں وہ ہمارے گناہوں کواُٹھا لے گیا۔ بے حساب دُکھوں کو برداشت کر کے اُس نے ہمارے گناہوں کی قیمت چُکائی۔ وہ مر گیا اور پھر جی اُٹھا تا کہ یہ ظاہر ہو کہ اسے موت پر پورا اختیار ہے۔
یسوع نے یہ ثابت کیا کہ وہ ابدی زندگی کا مالک ہے اور وہ ہمیں یہ زندگی بطور تحفہ دینے آیا۔’’کیونکہ خُدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تا کہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‘‘
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی زندگی کیسی تھی اور آپ نے اس کے لئے کتنا وقت وقف کیا وہ آپ کو مکمل معافی دیتا اور اپنے ساتھ ایک رشتے میں منسلک کر لیتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ آپ کا خُدا بنے، زندگی میں آپ کے ساتھ ساتھ چلے، آپ کے اندھیروں کو روشن کرے اور آپ کو قوت اور آنے والے کل کی اُمید بخشے۔ یسوع نے کہا ، ’’دُنیا کا نور میں ہوں۔ جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا۔‘‘ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی اُسکے نور، ہدایت اور اُسکی محبت کی پہچان میں آگے بڑھے؟ تو پھر اسے ابھی اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دیں اور اس کے ساتھ ایک رشتے کا آغاز کریں کیونکہ یہی اُس کی خواہش ہے۔
یسوع نے کہا، ’’دیکھ میں دروازہ پر کھڑا ہوا کھٹکھٹاتا ہوں۔ اگر کوئی میری آواز سن کر دروازہ کھولے گا تو میں اُس کے پاس اندر جا کر اُس کے ساتھ کھانا کھاؤں گا اوروہ میرے ساتھ۔‘‘ اس کے پاس جانے کا درج ذیل طریقہ ہے:
’’اے یسوع! میں کھو گیا ہوں تو میرا چرواہا بن اور مجھے ڈھونڈ لے۔ میری زندگی میں موجود گناہوں کو معا ف کر۔ میں نے تیری مرضی کے خلاف زندگی بسر کی۔ میں تیرے پاس نہ صرف مدد کے لئے آتا ہوں بلکہ اپنی باقی ماندہ زندگی کے لئے تیرے ساتھ ایک رشتہ قائم کرنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو میرا خُدا بنے اور اپنی مرضی کے مطابق میری راہوں کا تعین کرے۔ تیراعرفان حاصل کرنا میری خواہش اور عمر بھر تجھے عزت بخشنامیری جستجو ہے۔ اے خُدا! میری زندگی میں ابھی آ۔ مجھے قبول کرنے اور اپنا فرزند بنانے کا شکریہ ! آمین!‘‘

خُدا کے ساتھ ایک شخصی تعلق کا آغاز کیسے کریں؟

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔