ہمیشہ کی خوبصورتی کیلئے تلاش

ایک کامیاب فیشن ماڈرل یہ بحث کرتی ہے کہ تعمیرِ زندگی کی بنیادیں باطنی خوبصورتی کی بجائے جسمانی نمود پر ہوں۔

از : لارا کرتس کیلن برگ

یورپی فیشن رسالوں کے صفِ اول پر ہونا میرے لئے اب محض ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت تھی۔ میں اِس پر بمشکل یقین کر سکتی تھی۔ میں تو بس رسالوں میں ہونا ، ڈھیروں پیسے کمانا اور یورپی دُنیا گھومنا چاہتی تھی۔ دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے جدوجہد بالآخر ختم ہو گئی ۔ اب مَیں پیرس، اپنے نئے گھر میں کھانا کھا سکتی، ناچ سکتی اور قسمت اور شہرت سے لطف اندوز ہو سکتی تھی۔ بالآخر زندگی کیا زندگی یہی سب کچھ نہیں ہے؟

ظاہری نمود پر غور کرنا

خوبصورتی کے بارے میں آ پ کا کیا خیال ہے؟ آپ اپنے اندر کیا تبدیلی لانا پسند کریں گے اگر ایسا ممکن ہو؟ جب 19سال کی عمر میں مَیں نے کرسچن ڈائرکے پاس پیرس میں اپنے دور کا آغاز کیا تو خوبصورتی کے بارے میں میرا یہ خیال تھا کہ لو گ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اگر لوگ میری تصدیق کر دیتے اور مجھے ماڈلنگ کی نوکری کیلئے رکھنا چاہتے تو پھر مجھے نتیجے کے طور پر خوبصورت ہونا چاہئے تھا۔ میرا نظریہ یہ تھا کہ اگر میں کامیاب ہو گئی اور کام کرنے لگی تو پھر مجھے لازماً خوبصورت ہونا تھا۔ یہ طرزِ فکر خطرناک تھا کیونکہ میں اپنی عزتِ نفس دوسروں کے ہاتھوں میں دے رہی تھی یعنی وہ میرے متعلق کیا سوچتے ہیں۔
میں نے شراکت سے بھی خوبصورتی کا تعین کیا۔ میں دنیا کی چند خوبصورت ترین خواتین کے ساتھ کام کر رہی تھی جو کہ مشہور ترین رسالوں میں نظر آتی تھیں۔ جیسا کہ وہ میرے ساتھ کام کرنے والی میری سہیلیاں تھیں، میں نے سوچا کہ یقیناًمیں بھی اُنکی طرح خوبصورت تھی۔
میں جن مردوں کو متاثر کرتی اُن کی مدد سے میں نے خود کو یقین دلانے کا ایک اور طریقہ استعمال کیا۔ چونکہ بہت سے خوب رو، ذہین اور کامیاب مرد میرے تعاقب میں تھے میں نے سوچا کہ میں خوبصورت تھی۔ میں نامور تھی اور میرے بہت سے دوست بھی تھے۔ جب میں مزید مشہور ہو گئی تو لوگوں نے مجھے جان لیا اور میرے لئے ہر قسم کی دعوت حاصل کرنا اور اپنی پسند کی کسی بھی جگہ جانا مشکل نہ تھا۔ پس اگر مجھے ان سب احباب کا ساتھ اور اپنی پسند کی ہر جگہ گھومنا تھا تو مجھے خوبصورت ہونا چاہئے تھا۔
آخر کار میں خود غرضی کی زندگی بسر کرنے والی خودغرض اور خودپسند شخصیت بن گئی۔ ’میں‘،’’ میرے‘‘ اور’’مجھے‘‘ میرے پسندیدہ الفاظ تھے۔ میری پوری زندگی کا نقطہ نظر جسمانی نمود پر تھا۔۔۔ یعنی میرا وزن ، میرے بال، میرا پہناوا اور میری ساری دلکشی۔
میں ایک دفعہ جاپان میں دو ماہ کیلئے ماڈلنگ کی ملازمت پر تھی۔ ہر روز ملازم میرے سارے کام کرنے کیلئے آتے حتیٰ کہ میرے جوتوں کے تسمے بند کرنے تک۔ جب مجھے کپڑے تبدیل کرنے ہوتے تو کوئی شخص میرے کپڑے اور کوٹ پکڑے کھڑا ہوتا۔ ایک شخص کی ملازمت کی جگہ پر تین تین لوگ رکھے لگے تھے۔ ان سب باتوں سے میری خودپسندی اور خودغرضی کی بھوک مٹ گئی۔

شیڈول

مجھے کام کرنے کا بھی نشہ ہو گیا تھا۔میں ہفتہ میں سات دن تک کام کرتی کیونکہ میں جانتی تھی کہ کوئی چیز قابل بھروسہ نہیں۔ مجھے کسی بھی دن ملازمت سے فارغ کیا جا سکتا تھا۔ میری دلکشی کسی وقت بھی ختم ہو سکتی تھی اس لئے مجھے ہر کام کرنا پڑتا۔ میں سارا دن جرمنی میں کام کرنے کے بعد شام کے وقت ہوائی سفر کے ذریعہ پیرس میں کام کرنے چلی جاتی اور اگلی صبح پھر واپس جرمنی میں آ جاتی۔ مجھے یہ سب کچھ کھو دینے کا ڈر تھا اس لئے اِسے ہر قیمت پر تھامے رکھنا تھا۔ پس میں نے ہر وہ کام کیا جس کی میں استطاعت رکھتی تھی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ میں تھک کر بیمار ہو گئی۔ ایک دن شوٹنگ کے دوران مجھے چکر آیا اور میں نے گِر کر اپنا گھٹنا زخمی کر لیا۔ اپنے دور میں مَیں پہلی دفعہ بیمار ہو کر بستر پر پڑی تھی۔ کام کرنے کے قابل نہ ہونا میری زندگی کا ایک خوفناک تجربہ تھا کیونکہ اگر یہ صرف دو ہفتوں کیلئے بھی ہوتا تو اس کا مطلب تھا کہ میں ان سارے فیشن شوز کو کھو دیتی جو میں اپنی تندرستی کے دوران کر سکتی تھی۔ مجھے چودہ شوز ختم کرنے پڑے۔ میں تو برباد ہو گئی ، لیکن ایک دن جب میں بستر پر پڑی ہوئی کام کرنے کے قابل نہ تھی، میں نے اپنی زندگی پر غور کیا، خوبصورتی کے بارے میں اپنی قدروں اور خیالات پر سوال اُٹھایا اوریہ سوچا کہ میں اندر سے کیسا شخص بن گئی تھی۔ میں نے خیال کیا کہ خوبصورتی کے بارے میں میرے خیالات نامناسب تھے۔
مثلاً میں نے جان لیا کہ میرے خدوخال تبدیل ہو جائیں گے ۔ میری تصویریں (جو میں نے مختلف رسالوں میں سے پھاڑی تھیں) بہت جلد پرانی ہو گئی تھیں۔ میں نے اپنی تصویروں کو ان رسالوں تک پہنچانے کیلئے بڑی محنت کی تھی اور میری ایجنسی یہ چاہتی تھی کہ اُن کو چھ ماہ کے اندر میرے پورٹ فولیو میں سے نکال دے کیونکہ وہ سب کچھ پرانی طرز کا تھا۔ میں مسلسل نئے دور کے مطابق چلنے کی کوشش کر رہی تھی۔
میں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جواں عمری میں اتنی زیادہ دولت حاصل کرنا بھی ایک بہت بڑی بات تھی لیکن میں نے یہ بھی سیکھا کہ اِس کو منتظم کرنے کی ذمہ داری حد سے زیادہ بڑھ رہی تھی۔ میرے اندر یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ لوگ مجھ سے کیوں متاثر تھے۔ اگر میں مختلف نظر آتی یا کوئی اور کام کر رہی ہوتی یا میرے پاس اتنی دولت نہ ہوتی تو کیا میرا دوست پھر بھی مجھ سے محبت کرتا؟ ابھی میں اپنے دور کی انتہا پر ہی تھی کہ سوالات اور شک و شبہات مجھے تنگ کرنے لگے۔ میں نے سب چیزوں کے کھوکھلے پن اور اپنے اندر کے خلا کو محسوس کرنا شروع کیا۔ سب چیزوں کے حصول کے بعد جنہیں میں چاہتی تھی، میں نے سوچا کہ ابھی کسی چیز کی کمی تھی۔ یہ ساری کامیابی اور توجہ جو میں نے حاصل کی تھی میرے اندر محسوس ہونے والے خلا کو پُر نہ کر سکی۔ کیا ہو گیا تھا؟ میری ترجیحات کہاں تھیں؟ میں کس شخص یا چیز کیلئے زندگی بسر کر رہی تھی۔

غیرمحفوظ ظاہری صورت

مجھ پر یہ عیاں ہو گیا کہ جن چیزوں پر میں اپنی زندگی تعمیر کر رہی تھی وہ غیرمحفوظ تھیں۔یہ معاشرتی فکر، میرے دوست کی سوچ، میری کمائی ہوئی دولت کی مقدار یا میری شہرت پر تعمیر کی گئی تھی۔ مجھے خیال آیا کہ میں اپنی زندگی کی بنیاد ریت پر رکھ رہی تھی۔
میں نے اُس وقت پر غور کیا جب میں انڈیانا میں پلی بڑھی تھی اور میری زندگی میں ایک اہم واقع پیش آیا۔ ’’سب غلط جگہوں پر محبت کو تلاش کرنا‘‘، جیسا کہ اس گانے کے بول ہیں، اِس نے میری زندگی کے اندر کچھ اچھے کام کیے جب میری ہم جماعت نے مجھے ایک چرچ کے پروگرام پر دعوت دی۔ میں نے اسے قبول کر لیا کیونکہ جوانوں کے گروپ میں تقریباً آدھے لڑکے تھے اور چرچ بھی کافی بڑا تھا اس لئے میں نے سوچا کہ بہت لطف آئے گا۔ لیکن میرا ایمان تھا کہ میری زندگی میں خُدا کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ حالت کیا تھی؟ میرے والدین کے بیچ طلاق ہونے والی تھی۔ اُن کا ایمان اُنکی مدد نہیں کر رہا تھا۔
لیکن جب میں اس پروگرام میں گئی اور گیتوں کے علاوہ جب ایک پیغام سنا تو اُس نے میرے دل کو چھوا۔ پروگرام کے اختتام پر موسیقاروں نے کہا کہ وہ ایک خوشخبری بانٹا چاہتے تھے۔ میں نے سوچا کہ وہ شاید اپنی ریکارڈنگ یا کسی دوسری چیز کے بارے میں بتائیں گے۔لیکن جو خوشخبری انہوں نے سنائی وہ یہ تھی کہ خُدا ہم سے محبت کرتا ہے۔ انہوں نے یسوع مسیح کے وسیلہ سے خُدا کے ساتھ ایک رشتے کی بات کی۔ اُنہوں نے بیان کیا کہ کیسے خُدا نے مجھ سے غیرمشروط محبت کی اور اسی وجہ سے اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بھیج دیا تا کہ وہ میرے گناہوں کی خاطر صلیب پر اپنی جان دے۔ واہ! میں نے سوچا کہ ایک غیرمشروط محبت کا رشتہ! مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی پریشانی نہ تھی کہ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے غلط کام کیے اور یہ نہ سوچا کہ خُدا مجھ سے کیا کام کروانا چاہتا تھا۔ موسیقاروں نے بیان کیا کہ مجھے خُدا کی مہربانی کیلئے محنت کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ میں صرف یسوع مسیح کے وسیلہ سے خُدا کی مہربانی اور محبت کا تحفہ حاصل کر سکتی تھی۔
اس رات میں نے ایک مختصر دُعا کی کہ خُدا مجھے معاف کرے اور تبدیل کرے۔ میں نے اُس سے کہا کہ میں اپنی زندگی اُس کیلئے بسر کروں گی اور اُس کی خدمت کروں گی ۔ میں نے اُسے دعوت دی کہ وہ میری زندگی میں آئے اور میرے ساتھ ایک رشتے کا آغاز کرے۔
پس اب سالوں بعد میں پیرس میں بیٹھی اُس خاص موقع پر غور کر رہی تھی اور حیران تھی کہ کیسے زندگی میں اس جگہ پر آگئی جہاں اِس کے حقیقی معانی کھو گئے تھے۔ میرے خیال میں مَیں نے خُدا کے ساتھ اپنے رشتے کو رَد کیا اور اپنی راہ اختیار کی۔ اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ میں نے بہت خالی پن محسوس کیا ۔ پس میں نے خُدا سے کہا کہ مجھے اپنی اور دوسروں کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے پر معاف کر دے۔ اور میں نے اس سے کہا، ’’مہربانی سے مجھے تبدیل کر اور بتا کہ حقیقی خوبصورتی کیا ہے‘‘۔
خُدا نے سب سے پہلے غرور کے خطرے کو مجھ پر ظاہر کیا۔ اس کی وجہ سے مجھے بڑی دیر تک مشکل کا سامنا تھا۔ امریکہ میں کاسمیٹک پر سالانہ 20 ارب اور کاسمیٹک سرجری پر 3ارب اور متوازن صحت کی مصنوعات پر 30ارب اور 3کروڑ خرچ ہوتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اپنی ظاہری صورت پر کتنا زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ غرور خوبصورت نہیں ہے۔
مزید یہ تھا کہ میں اپنی خوبصورتی کا دوسری عورتوں کے ساتھ موازنہ کرتی۔ حسد بھی ایک مسئلہ تھا جس پر میں نے کام کرنا تھا۔ میں نے یہ سیکھنا تھا کہ خُدا نے مجھے جیسا بھی بنایا اور میں جیسی بھی ہوں مجھے اِس بات کو جان کر مطمئن رہنا تھا کہ میں چاہے کچھ بھی کروں اور کیسی بھی نظر آؤں وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔
غیرمطمئن رہنا اچھا نہیں۔ یہ حالت کسی کا دوست بننے یا کسی کو دوست بنانے میں مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اور آپ دوسروں سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں کہ وہ آپ کی تعریف کریں اور آپ کو مطمئن کریں۔

خوبصورتی کی تعریف۔۔۔حقیقی خوبصورت

خوبصورتی کیا ہے؟ یہ جسمانی صورت نہیں ہے۔یہ تو ہمارے اندر دل میں پائی جاتی ہے۔ عاجزی خوبصورتی ہے اگرچہ یہ میرے کاروبار میں قابلِ قدر نہیں ہے۔ عزتِ نفس اور اطمینان خوبصورت ہیں۔ خُدا کا عرفان خوبصورتی لاتا ہے کیونکہ اِس بات کو جاننے سے کہ وہ ہم سے محبت کرتا اور ہمیں قبول کرتا ہے ہماری زندگیوں میں اطمینان اور عزتِ نفس پیدا ہوتے ہیں۔ اِس کے نتیجہ میں ہم آزادی سے اپنی خامیوں کو قبول کرتے اور خود سے محبت کرتے ہیں۔
خُدا کی معافی کے بغیر گناہ ہمارے باطن کو بدصورت بنا دیتا ہے۔ ہم اطمینان میں نہیں رہتے۔ دُنیا میں ڈھانپنے کے جتنے بھی علاج ہیں وہ ہمیں تبدیل نہیں کر سکتے۔ خُدا اُنہیں دیکھے گا جیسا کہ دوسرے لوگ دیکھتے ہیں۔ صرف یسوع ہی ہمیں خُدا کی نظر میں خوبصورت بنا سکتا ہے۔ حقیقی باطنی خوبصورتی ہماری زندگی کے مرکز سے خُدا کے ساتھ شروع ہو کر باہر کی جانب پھیلتی ہے۔
میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ یسوع مسیح نے میری زندگی کو تبدیل کیا ہے اور میں خُدا کے پیچھے چلنے کے فیصلے پر کبھی نہیں پچھتاؤں گی۔ کیا آپ مسیح کو اپنی زندگی میں آنے کی دعوت نہ دیں گے؟ یسوع فرماتا ہے، ’’دیکھ میں دروازہ پر کھڑا ہوا کھٹکھٹاتا ہوں ۔ اگر کوئی میری آواز سن کر دروازہ کھولے گا تو میں اِس کے پاس اندر جا کر اس کے ساتھ کھانا کھاؤں گا اور وہ میرے ساتھ‘‘۔ (مکاشفہ 20:3 )
آپ دُعا میں ایمان کے ساتھ مسیح کو ابھی قبول کر سکتے ہیں۔ خُدا آپ کے دل سے واقف ہے اور وہ آپ کے الفاظ کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ وہ آپ کے دل کے رویئے پر نظر کرتا ہے ۔ ذیل میں دی گئی دُعا جو میں نے کی شاید یہ آپ کی دِلی خواہش کا بھی اظہار کر دے۔
خُداوند یسوع! مجھے تیری ضرورت ہے ۔ میرے گناہوں کے لئے صلیب پر جان دینے کا شکریہ! میں اپنی زندگی کا دروازہ کھول کر تجھے اپنا نجات دہندہ اور خُداوند قبول کرتی ہوں۔ مجھے ابدی زندگی دینے اور میرے گناہوں کو معاف کرنے کا شکریہ! میری زندگی کو اپنے اختیار میں کر لے اور مجھے وہ شخص بنا دے جو تو بنانا چاہتا ہے۔
اگر یہ دُعا آپ کی دلی خواہش کی عکاسی کرتی ہے تو آ پ ابھی یہ دُعا مانگ سکتے ہیں اور یسوع اپنے وعدے کے مطابق آپکی زندگی میں آ جائے گا۔

میں نے ابھی یسوع کو اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دی ہے (کچھ مددگار معلومات آگے ہے)۔۔۔

میں یسوع کو اپنی زندگی میں دعوت دینا چاہوں گا۔ مہربانی سے اس کی مزید اور مکمل وضاحت کریں۔۔۔

میرا ایک سوال ہے۔۔۔

اس صفحہ کو دوسروں تک پہنچائیں۔